
ماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سربراہ اکھلیش یادو اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر و مرکزی وزیر جینت چودھری کے درمیان لفظی جنگ تیز ہوگئی ہے۔ کبھی انتخابی حلیف رہنے والے دونوں رہنما اب سیاسی حریف ہیں۔ مغربی اتر پردیش کی سیاست میں دونوں کے درمیان بڑھتی تلخی کو 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل اہم قرار دیا جا رہا ہے۔حال ہی میں ایک پروگرام میں اکھلیش یادو نے اتحاد کے سابق ساتھیوں پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’پتہ نہیں کہاں کہاں سے لوگ اتحاد بنانے آ گئے تھے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم نے چونی کا روپیہ بنا دیا تھا، اس کے باوجود وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔‘‘ اکھلیش نے کسی رہنما کا نام نہیں لیا، لیکن ان کے اس بیان کو جینت چودھری پر طنز سمجھا گیا۔
جینت چودھری کا سخت جواب
اکھلیش کے بیان پر جینت چودھری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جوابی حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی لڑائی میں انہیں کچھ سستے الفاظ استعمال ہی کرنے تھے تو کم از کم ان کا نام لے کر کہتے۔جینت چودھری نے جاٹ برادری کو نشانہ بنائے جانے اور ’’اے بی سی ڈی ہم نے سکھائی‘‘ جیسے بیان پر بھی سوال اٹھایا۔ اکھلیش کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ ایسا تکبر صرف زوال کی طرف لے جاتا ہے۔ جینت نے لکھا کہ وہ اس تکبر کو قریب سے دیکھ چکے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ اس طرح کا رویہ صرف زوال کا باعث بنتا ہے۔
2022 کے اتحاد کی یاد
اکھلیش یادو اور جینت چودھری کے درمیان موجودہ سیاسی تلخی کی جڑیں 2022 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات تک جاتی ہیں۔ اس وقت ایس پی اور آر ایل ڈی نے اتحاد کرکے انتخابات لڑے تھے۔ آر ایل ڈی نے مغربی اتر پردیش کی 33 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے تھے، جن میں سے 8 پر اسے کامیابی ملی تھی۔ یہ پارٹی کے لیے ایک اہم سیاسی واپسی تھی۔ اس کے مقابلے میں 2017 کے اسمبلی انتخابات میں آر ایل ڈی نے پورے اتر پردیش میں 277 نشستوں پر انتخاب لڑا تھا، لیکن اسے صرف ایک سیٹ پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ اکھلیش کے حالیہ بیان کو اسی سیاسی پس منظر سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے بیان سے یہ اشارہ بھی سمجھا جا رہا ہے کہ ایس پی کے ساتھ اتحاد نے آر ایل ڈی کو مغربی اتر پردیش میں اپنی سیاسی زمین مضبوط کرنے میں مدد دی تھی۔
بی جے پی کے ساتھ جینت، ایس پی سے دوری
2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل جینت چودھری نے بی جے پی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کا رخ کر لیا تھا۔ اس کے بعد ایس پی اور آر ایل ڈی کے سیاسی راستے الگ ہوگئے۔ جینت چودھری اب مرکزی حکومت میں وزیر ہیں۔ ایسے میں دونوں لیڈروں کے درمیان بڑھتی بیان بازی آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے دوران خاص سیاسی اہمیت رکھتی ہے۔
آر ایل ڈی نے کسانوں اور جاٹوں کی توہین قرار دیا
اکھلیش یادو کے بیان پر آر ایل ڈی لیڈروں نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اور آر ایل ڈی رہنما انل کمار نے اسے انتہائی قابل اعتراض اور افسوس ناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف جینت چودھری کی توہین نہیں بلکہ چودھری چرن سنگھ کی نظریاتی وراثت اور کسان برادری کی بھی توہین ہے۔انل کمار نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کو چودھری چرن سنگھ خاندان کی خدمات کو نہیں بھولنا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کسان برادری 2027 کے اسمبلی انتخابات میں اس مبینہ توہین کا جمہوری جواب دے گی۔اس بیان کے بعد واضح ہے کہ ’چونی‘ تنازع اب ذاتی سیاسی طنز سے آگے بڑھ کر مغربی اتر پردیش کی جاٹ، کسان اور علاقائی سیاست سے بھی جڑتا جا رہا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82





