
نئی دہلی: ملک بھر میں گزشتہ چند ہفتوں سے چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ صارفین امور کی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق 20 جولائی 2026 کو چینی کی اوسط خوردہ قیمت 48.18 روپے فی کلو تھی، جو ایک ماہ بعد 21 اگست کو بڑھ کر 58.20 روپے فی کلو ہوگئی۔ اس طرح صرف 30 دن میں چینی تقریباً 21 فیصد مہنگی ہوگئی ہے۔ قیمتوں میں اس تیزی کے بعد یہ سوال بھی اٹھنے لگا کہ کہیں حکومت کی ایتھنول پالیسی اس کی وجہ تو نہیں۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیچھے بنیادی وجہ ایتھنول نہیں بلکہ چینی کی پیداوار میں کمی، ذخیرہ اندوزی اور عالمی مارکیٹ میں بڑھتی قیمتیں ہیں۔
ایتھنول پالیسی پر کیوں اٹھے سوال؟
چینی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ایتھنول پالیسی پر سوال اٹھائے گئے کہ کہیں گنے اور چینی کا زیادہ حصہ ایتھنول بنانے میں تو استعمال نہیں کیا جا رہا۔ حکومت نے اس کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ 23-2022 میں جہاں تقریباً 12 فیصد چینی ایتھنول کی پیداوار میں استعمال ہوتی تھی، وہیں 26-2025 میں یہ تناسب کم ہو کر تقریباً 9 فیصد رہ گیا ہے۔ حکومت کے مطابق ہندوستان میں تیار ہونے والے ایتھنول کا تقریباً تین چوتھائی حصہ اب اناج، خاص طور پر مکئی سے حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے موجودہ قیمتوں میں اضافے کو صرف ایتھنول پالیسی سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔
چینی کی پیداوار میں بڑی کمی
موجودہ سیزن میں چینی کی پیداوار کا تخمینہ 306 لاکھ ٹن لگایا گیا ہے، جبکہ ابتدا میں 343.5 لاکھ ٹن پیداوار کی توقع تھی۔ یعنی اندازے کے مقابلے میں تقریباً 37.5 لاکھ ٹن کی کمی کا امکان ہے۔ گنے کی فصل پر ریڈ روٹ اور ٹاپ بورر جیسی بیماریوں کا اثر پڑا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ بارش اور کھیتوں میں پانی بھرنے سے بھی گنے کی پیداوار متاثر ہوئی۔ جب مارکیٹ میں سپلائی کم ہوتی ہے اور طلب برقرار رہتی ہے تو قیمتوں پر براہ راست دباؤ پڑتا ہے۔
تہواروں سے پہلے ذخیرہ اندوزی نے بڑھائی تشویش
اگست کے بعد ملک میں تہواروں کا موسم شروع ہوجاتا ہے، جس کے دوران مٹھائی، بیکری مصنوعات اور مشروبات میں چینی کی کھپت بڑھ جاتی ہے۔ ایسے وقت میں اگر مارکیٹ میں پیداوار کم ہونے کا تاثر پیدا ہو تو تاجر اور صنعتی ادارے زیادہ اسٹاک جمع کرنا شروع کرسکتے ہیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ بعض علاقوں میں ذخیرہ اندوزی اور سٹہ بازی نے بھی چینی کی قیمتوں کو مزید اوپر پہنچانے میں کردار ادا کیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں بھی چینی مہنگی
چینی کی قیمتوں میں اضافہ صرف ہندوستان تک محدود نہیں ہے۔ عالمی سطح پر بھی سپلائی کو لے کر تشویش بڑھ رہی ہے۔ 27-2026 میں عالمی سطح پر تقریباً 33 لاکھ ٹن چینی کی کمی کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ موسم میں غیر یقینی صورتحال نے پیداوار کے خدشات میں اضافہ کیا ہے، جس کا اثر عالمی قیمتوں پر بھی پڑا۔ 30 جون 2026 کو چینی کی قیمت 474 ڈالر فی ٹن تھی، جو 20 اگست تک بڑھ کر 552 ڈالر فی ٹن ہوگئی۔ اس طرح دو ماہ سے بھی کم عرصے میں عالمی قیمت میں تقریباً 16 فیصد اضافہ ہوا۔
حکومت نے اٹھائے کئی اقدامات
قیمتوں پر قابو پانے کے لیے حکومت نے کئی اقدامات کیے ہیں۔ یکم اگست سے 30 نومبر تک ڈیلروں کے لیے 400 ٹن کی اسٹاک حد مقرر کی گئی ہے۔ یکم ستمبر سے تھوک خریدار 15 دن کی کھپت سے زیادہ چینی کا ذخیرہ نہیں رکھ سکیں گے۔ اس کے علاوہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی ٹیمیں شوگر ملوں میں جاکر اسٹاک کی فزیکل ویری فکیشن بھی کر رہی ہیں۔ حکومت نے 10 لاکھ ٹن خام چینی کی ڈیوٹی فری درآمد کی بھی منظوری دی ہے۔
اکتوبر سے پہلے شروع ہوگی گنے کی پِرائی
پیداوار میں کمی کے خدشے کو دیکھتے ہوئے حکومت نے گنے کی پِرائی کا سیزن اکتوبر سے ہی شروع کرنے کی تیاری کی ہے۔ عام طور پر اکتوبر میں 3 سے 4 لاکھ ٹن چینی کی پیداوار ہوتی ہے، لیکن پِرائی جلد شروع ہونے سے یہ مقدار 10 لاکھ ٹن سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس سے تہواروں کے دوران مارکیٹ میں چینی کی دستیابی بڑھنے اور قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کی امید ہے۔
ایتھنول نے شوگر ملوں کو دیا متبادل بازار
ہندوستان میں عام طور پر 320 سے 340 لاکھ ٹن چینی پیدا ہوتی ہے، جبکہ ملک میں کھپت تقریباً 280 سے 290 لاکھ ٹن رہتی ہے۔ اس طرح اضافی چینی شوگر ملوں کے لیے بوجھ بن سکتی ہے۔ ایتھنول کی پیداوار نے ملوں کو ایک متبادل مارکیٹ فراہم کی ہے، جس سے ان کے کیش فلو میں بہتری آئی اور گنے کے کسانوں کو بروقت ادائیگی میں مدد ملی۔ 20 اگست 2026 تک گنے کے کسانوں کے 97 فیصد بقایاجات کی ادائیگی ہوچکی تھی۔
سبسڈی میں بھی بڑی تبدیلی
2014 سے 2021 کے درمیان حکومت نے شوگر انڈسٹری کو تقریباً 14,600 کروڑ روپے کی سبسڈی دی تھی۔ تاہم 22-2021 کے بعد ایسی کوئی نئی سبسڈی نہیں دی گئی۔ اس کے باوجود ایتھنول پالیسی نے شوگر ملوں اور کسانوں کو متبادل آمدنی اور ادائیگی کے نظام میں سہارا دیا ہے۔
کیا آنے والے دنوں میں چینی سستی ہوگی؟
اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ چینی کی قیمتیں آگے کم ہوں گی یا مزید بڑھیں گی۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ موجودہ اسٹاک کتنی تیزی سے مارکیٹ میں آتا ہے، حکومت ذخیرہ اندوزی کے خلاف کتنی سخت کارروائی کرتی ہے اور نیا گنے کا سیزن کیسا رہتا ہے۔ اگر اکتوبر سے گنے کی پِرائی وقت پر شروع ہوتی ہے اور پیداوار توقع کے مطابق بہتر رہتی ہے تو تہواروں کے دوران چینی کی سپلائی بڑھ سکتی ہے، جس سے قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں مدد ملے گی۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






