
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو کانگریس پر شدید حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پارٹی نے وندے ماترم کے صرف دو بند گانے کا فیصلہ کرکے اپنی ’’خوشامد کی سیاست‘‘ کو دوبارہ زندہ کیا ہے۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) نے 1937 کی پارٹی قرارداد کے مطابق پارٹی پروگراموں میں وندے ماترم کے صرف پہلے دو بند گانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اے این آئی سے بات کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ یہ فیصلہ محض علامتی نہیں ہے بلکہ ایک ایسی تاریخی غلطی کو دہرانا ہے جس نے ملک کی تقسیم میں کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا ’’کل کانگریس ورکنگ کمیٹی نے ایک حیران کن اور ملک مخالف فیصلہ کیا۔ 1937 کی اپنی قرارداد کے تحت انہوں نے عظیم قومی گیت وندے ماترم کے صرف دو بند گانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
1937 میں خوشامد کی سیاست کا الزام
امت شاہ نے الزام لگایا کہ 1937 میں مسلم خوشامد کی سیاست کے تحت کانگریس نے وندے ماترم کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی بنیاد رکھی، جس کے بعد دو قومی نظریے کو تقویت ملی اور بالآخر ملک تقسیم ہوا اور پاکستان وجود میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت نے وندے ماترم کی تشکیل کے 150ویں سال میں اس ’’تاریخی غلطی‘‘ کو درست کیا ہے اور پورا قومی گیت گانے کے ذریعے قومی یکجہتی کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ سرکاری تقریبات میں مکمل وندے ماترم گانے کے فیصلے کو قانونی شکل دی گئی ہے، لیکن کانگریس نے اسے نظرانداز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’کانگریس کا یہ فیصلہ اس کی انتہائی سیاستِ خوشامد کی تصدیق کرتا ہے۔ ووٹ بینک کی خوشامد کے لیے انہوں نے نہ صرف آنجہانی بنکم چندر چٹرجی کے لازوال فن کی توہین کی ہے بلکہ ان لاکھوں شہیدوں کی بھی توہین کی ہے جو وندے ماترم کا نعرہ لگاتے ہوئے آزادی کے لیے پھانسی کے پھندے پر چڑھے اور برسوں جیلوں میں رہے۔‘‘
عوام سے کانگریس کے خلاف آواز اٹھانے کی اپیل
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ کانگریس آج اپنی 1937 کی قرارداد کو پارلیمنٹ کے قانون پر ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے کانگریس صدر راہل گاندھی پر بھی تنقید کی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ پارٹی کے اس فیصلے کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے 80 سال بعد ملک کے عوام نریندر مودی حکومت کی جانب سے درست کی گئی اس تاریخی غلطی کی مخالفت برداشت نہیں کریں گے۔ امت شاہ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کانگریس کے اس فیصلے کی سخت مذمت کرتی ہے اور عوام کے درمیان اور قانون ساز اسمبلیوں میں اس کی بھرپور مخالفت کرے گی۔
کانگریس نے اپنے فیصلے کا دفاع کیا
دوسری جانب کانگریس نے اپنے موقف کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے نے امت شاہ پر طنز کرتے ہوئے بی جے پی اور آر ایس ایس کے آزادی کی جدوجہد میں کردار پر سوال اٹھایا۔ کھڑگے نے کہا کہ جب وہ رکن اسمبلی بنے تھے تو امت شاہ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آزادی کی جدوجہد میں بی جے پی یا آر ایس ایس کے کس شخص نے حصہ لیا تھا۔
سی ڈبلیو سی نے پہلے دو بند گانے کا فیصلہ کیا
بدھ کو کانگریس ورکنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ پارٹی کی تقریبات میں قومی گیت وندے ماترم کے صرف پہلے دو بند گائے جائیں گے۔ پارٹی نے اس فیصلے کے لیے اپنی 1937 کی قرارداد کا حوالہ دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس تنازع کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جب بی جے پی نے الزام لگایا تھا کہ 15 اگست کو یوم آزادی کی تقریبات کے دوران قومی گیت کی پیشکش کے وقت کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی پارلیمانی چیئرپرسن سونیا گاندھی آپس میں گفتگو کر رہے تھے۔ بی جے پی نے دونوں سے عوامی معافی کا مطالبہ کیا تھا۔ سی ڈبلیو سی کے اجلاس کے بعد کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے کہا تھا کہ وندے ماترم کی پیشکش کے حوالے سے پارٹی کا موقف واضح ہے اور وہ 1937 میں مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کی جانب سے لیے گئے فیصلوں پر عمل کرے گی۔
-1785308028596_m.webp)





