
نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی کلدیپ کمار کو مبینہ طور پر پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کا معاملہ دہلی ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ کلدیپ کمار کو پولیس اہلکار ان کی رہائش گاہ سے اپنے ساتھ لے گئے، تاہم ان کے بارے میں اہل خانہ اور پارٹی کو اب تک کوئی واضح اطلاع نہیں دی گئی۔ دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے میں دائر عرضی پر منگل، 18 اگست کو جلد سماعت کے لیے فہرست میں شامل کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں نے سوشل میڈیا کے ذریعے سوال اٹھانا شروع کیا کہ آخر رکن اسمبلی کلدیپ کمار کہاں ہیں۔ پارٹی کی جانب سے ان کی مبینہ غیر قانونی حراست پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
تقریباً 20 سادہ لباس اہلکار گھر سے لے گئے؟
سینئر وکیل شادان فراست نے دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ 18 اگست کی صبح تقریباً 4 بجے 20 کے قریب سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکار کلدیپ کمار کو ان کے گھر سے اپنے ساتھ لے گئے۔ وکیل کے مطابق، کلدیپ کمار گزشتہ روز سے اپنے حلقے میں ایک صفائی ملازم کے قتل کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔بتایا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران رکن اسمبلی مقتول صفائی ملازم کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اسی دوران مبینہ طور پر پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔
اہل خانہ کو بھی نہیں ملی معلومات
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کلدیپ کمار کے اہل خانہ نے پولیس سے رابطہ کرنے کی متعدد کوششیں کیں، لیکن انہیں اب تک رکن اسمبلی کی موجودگی یا ان کی مبینہ حراست کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئی ہیں۔ اس معاملے میں عدالت سے کلدیپ کمار کو اس کے سامنے پیش کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔اس مقصد کے لیے ہیبیس کارپس یعنی حبسِ بے جا سے متعلق عرضی کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ اس عرضی کے ذریعے عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے تو اسے عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔
کیجریوال نے بھی اٹھائے سوال
دوسری جانب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی کلدیپ کمار کی مبینہ حراست پر مرکز اور دہلی پولیس کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ پولیس صبح تقریباً 4 بجے کلدیپ کمار کو ان کے گھر سے لے گئی اور گھر کے سی سی ٹی وی کیمروں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ڈی وی آر بھی اپنے ساتھ لے گئی۔کیجریوال نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک منتخب رکن اسمبلی کو بغیر وجہ اور اطلاع کے اس طرح گھر سے لے جایا جا سکتا ہے تو عام آدمی خود کو کہاں محفوظ سمجھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس طرح کی مبینہ ’غنڈہ گردی‘ برداشت نہیں کرے گا۔فی الحال معاملے میں عدالت کی سماعت اور پولیس کی جانب سے باضابطہ وضاحت کا انتظار ہے، جس کے بعد کلدیپ کمار کی مبینہ حراست کی اصل صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






