
نئی دہلی : کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جب وہ پہلی بار رکن اسمبلی بنے تھے، اس وقت امت شاہ ابھی بچے تھے۔ جنوبی گوا میں ایک سیاسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کھڑگے نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور آر ایس ایس پر آزادی کی جدوجہد میں ان کے کردار کو لے کر سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی ارکان اسمبلی کو اغوا کرکے حکومتیں بناتی ہے۔
جب میں ایم ایل اے بنا، امت شاہ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے
ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ بی جے پی بار بار گاندھی خاندان اور سونیا گاندھی کا ذکر کرتی ہے، لیکن اسے اپنی تاریخ بھی دیکھنی چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’جب میں رکن اسمبلی بن گیا تھا، اس وقت آج کے وزیر داخلہ امت شاہ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ ان کی عمر کتنی ہے، 57 یا 58 سال؟‘‘انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھیوں اور کانگریس کے لوگوں نے ملک کی آزادی کی لڑائی لڑی، لیکن بی جے پی کے لوگ بتائیں کہ انہوں نے آزادی کی جدوجہد میں کیا کردار ادا کیا۔ کھرگے نے کہا کہ کانگریس کو ملک دشمن اور غیر محب وطن قرار دینے والے خود ملک دشمن سوچ رکھتے ہیں۔
کیا آپ کو دلتوں سے متعلق امتیاز پر شرم نہیں آتی؟
کھڑگے نے بی جے پی پر مذہبی بنیادوں پر امتیاز برتنے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے ہلدوانی میں اپنی سیاسی ریلی کے بعد مبینہ طور پر مقام کی ’شدھی کرن‘ کرائے جانے کے معاملے پر سخت اعتراض کیا۔الزام ہے کہ 8 اگست کو کھڑگے کی ریلی کے دو دن بعد 10 اگست کو شری رام سینا نے اسی مقام پر گنگاجل کا چھڑکاؤ کیا اور ہون کیا۔ اس واقعے کے بعد سیاسی تنازع پیدا ہوگیا۔ کانگریس لیڈروں نے الزام لگایا کہ یہ دلتوں کے خلاف امتیازی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔کھڑگے نے سوال کیا کہ کیا بی جے پی کو اس بات پر شرم نہیں آتی کہ وہ دلتوں سے متعلق امتیازی روایات پر عمل کررہی ہے؟ کیا دلتوں کو الگ رکھا جارہا ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ جس جگہ انہوں نے تقریر کی، اسے پاک کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی اور کیا اس پر شرمندگی نہیں ہونی چاہیے؟
میں عوام کی آواز اٹھاتا رہوں گا
کانگریس صدر نے الزام لگایا کہ وزیر داخلہ امت شاہ اکثر کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی اور گاندھی خاندان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ کھڑگے نے کہا کہ وہ عوام کے نمائندے ہیں اور اسی حیثیت سے ملک بھر میں سفر کرتے، بولتے اور سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ بی جے پی کی مبینہ خامیوں کو عوام کے سامنے لاتے رہیں گے اور اسے شکست دینے کی کوشش کرتے رہیں گے۔
گوا حکومت پر بھی حملہ
گوا کی بی جے پی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ ریاستی کابینہ کے 12 وزراء میں سے 10 ایسے افراد ہیں جو پہلے کانگریس کا حصہ رہ چکے ہیں اور بعد میں پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوگئے۔انہوں نے پارٹی بدلنے والےلیڈروں کو ’غدار‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے سیاسی رخ بدلنے سے گوا کی اخلاقیات اور خودداری کو نقصان پہنچا ہے۔ کھرگے نے ووٹروں سے کانگریس کی حمایت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگوں کو ووٹ نہیں دینا چاہیے۔
گوا میں زمین کی خریداری کا معاملہ بھی اٹھایا
ملکارجن کھڑگے نے گوا میں زمین کی ملکیت کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بڑے شہروں کے امیر افراد نے گوا میں بڑی مقدار میں زمین خریدی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ خریداری مقامی لوگوں کی بھلائی کے لیے کی جارہی ہے یا گوا کے وسائل اور زمین کو نقصان پہنچانے کے لیے؟
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






