
اتر پردیش کی سیاست میں ایک بار پھر بڑا سیاسی موڑ سامنے آیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنی تنظیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرتے ہوئے نئی ریاستی ورکنگ کمیٹی کا اعلان کیا ہے۔ اس نئی ٹیم میں جس نام کی سب سے زیادہ چرچا ہو رہی ہے، وہ پوجا پال ہیں۔ بی جے پی نے انہیں ریاستی نائب صدر کی ذمہ داری سونپی ہے، جسے سیاسی حلقوں میں ایک اہم پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔پوجا پال کی سیاسی زندگی طویل عرصے سے جدوجہد، تنازعات اور خبروں کا مرکز رہی ہے۔ وہ کبھی سماجوادی پارٹی کی رکن اسمبلی تھیں، لیکن گزشتہ سال انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ ان کے اخراج کی وجہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور ان کی حکومت کی کھل کر تعریف کرنا بتائی گئی تھی۔
یوگی حکومت کی تعریف، سماجوادی پارٹی سے دوری کی وجہ بنی
پوجا پال نے اسمبلی کے اندر اور باہر کئی مواقع پر یوگی حکومت کی قانون و انتظام کی پالیسیوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کی تعریف کی تھی۔ خاص طور پر مافیا ڈان عتیق احمد کے خلاف کی گئی کارروائی پر انہوں نے وزیر اعلیٰ کی کھل کر ستائش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جس انصاف کا وہ برسوں سے انتظار کر رہی تھیں، وہ یوگی حکومت کے دور میں ممکن ہو سکا۔ اسمبلی میں انہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ نے ان کی بات سنی اور انہیں انصاف دلانے کی سمت میں اقدامات کیے۔ ان کے اس بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی سماجوادی پارٹی نے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں پارٹی سے خارج کر دیا۔ پارٹی نے ان پر نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور تنظیمی مفادات کے خلاف کام کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔
شوہر راجو پال کے قتل نے زندگی کا رخ بدل دیا
اتر پردیش کی سیاست میں پوجا پال پہلی بار اس وقت سرخیوں میں آئیں جب ان کے شوہر اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے رکن اسمبلی راجو پال کو قتل کر دیا گیا تھا۔ شادی کے صرف چند دن بعد پیش آنے والے اس واقعے نے پورے صوبے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ پوجا پال مسلسل الزام لگاتی رہی ہیں کہ اس قتل کے پیچھے عتیق احمد اور اس کے قریبی ساتھیوں کا ہاتھ تھا۔ شوہر کی موت کے بعد انہوں نے عملی سیاست میں سرگرم کردار ادا کیا اور انصاف کی جدوجہد کو اپنی سیاست کا بنیادی مقصد بنا لیا۔ اسی جدوجہد نے انہیں ریاست کی نمایاں خاتون رہنماؤں میں شامل کر دیا۔
بی ایس پی سے سماجوادی پارٹی اور اب بی جے پی تک کا سفر
سیاسی طور پر پوجا پال کا سفر کئی نشیب و فراز سے بھرا رہا ہے۔ بہوجن سماج پارٹی نے انہیں الٰہ آباد مغربی اسمبلی حلقے کے ضمنی انتخاب میں امیدوار بنایا تھا۔ بعد میں بھی انہیں موقع ملا اور وہ انتخاب جیت کر اسمبلی پہنچیں۔ سال 2018 میں بی ایس پی قیادت سے اختلافات کے بعد انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا۔ اس کے بعد 2019 میں انہوں نے سماجوادی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پر انہوں نے 2022 کے اسمبلی انتخابات میں ضلع کوشامبی کی چائل اسمبلی سیٹ سے کامیابی حاصل کی اور دوبارہ اسمبلی پہنچیں۔
اب بی جے پی کی نئی ریاستی ورکنگ کمیٹی میں نائب صدر بنائے جانے کے بعد ان کا سیاسی سفر ایک نئے موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ پوجا پال کو یہ ذمہ داری دے کر بی جے پی نے نہ صرف ایک تجربہ کار رہنما کو تنظیم میں اہم مقام دیا ہے بلکہ ریاست کے سماجی اور سیاسی توازن کو بھی مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






