
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) مہاراشٹرنے یونائیٹڈ اگینسٹ اِن جسٹس اینڈ ڈسکریمنیشن (یواے آئی ڈی) کے اشتراک سے میئرہال، اندھیری ویسٹ، ممبئی میں ’’مہاراشٹرفریڈم آف ریلیجن بل 2026‘‘ کے موضوع پرایک عوامی سیمینارکا انعقاد کیا۔ سیمینارکا مقصد مجوزہ قانون کے آئینی آزادی، شہری حقوق اورسماجی ہم آہنگی پرممکنہ اثرات کا جائزہ لینا تھا۔ پروگرام کی صدارت بامبے ہائی کورٹ کے سابق جج، جسٹس ابھے تھپسے نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ بھارتی آئین ہرشہری کواپنے مذہب پرعمل کرنے، اس کی تبلیغ کرنے اوراس کا آزادانہ اظہارکرنے کا بنیادی حق دیتا ہے۔
انہوں نے مجوزہ بل پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اسے مذہبی آزادی کے تحفظ کے نام پرپیش کیا جا رہا ہے، تاہم اس کی بعض دفعات آئینی حقوق کومحدود کرنے والی محسوس ہوتی ہیں۔ جسٹس تھپسے نے خبردارکیا کہ مبہم اورغیرواضح زبان میں بنائے گئے قوانین تحفظ کے بجائے خوف اورغیریقینی کی فضا پیدا کرتے ہیں، جوسماجی ہم آہنگی اورکثرتِ مذہب وثقافت پرمبنی جمہوری اقدارکوکمزورکرسکتے ہیں۔ بل کا قانونی تجزیہ پیش کرتے ہوئے معروف وکیل لارا جیسانی نے “لالچ” (Allurement) جیسی اصطلاحات کی وسیع اورغیرمتعین تشریح پر تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی، فلاحی، سماجی خدمت اور رفاہی سرگرمیاں، خصوصاً اقلیتی اداروں کی جانب سے انجام دی جانے والی خدمات، اس قانون کے غلط استعمال کا شکار بن سکتی ہیں۔
لارا جیسانی نے مزید بتایا کہ مجوزہ بل میں شادی یا لالچ کے ذریعے مبینہ تبدیلی مذہب کے معاملات میں دس سال تک قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانے کی سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ انہوں نے ان دفعات پر بھی سوال اٹھایا کہ جن کے تحت کوئی تیسرا شخص یا پولیس شکایت درج کرا سکتی ہے، جبکہ ملزم پر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے، جو انصاف کے بنیادی اصولوں اورقانونی تحفظات کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتی ہیں۔ پولیس ریفارمز واچ کے ڈولفی ڈی سوزا نے بل کی تیاری کے عمل کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسے مؤثرعوامی مشاورت کے بغیرتیارکیا گیا ہے۔ انہوں نے تمام طبقات کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ مجوزہ قانون کا سنجیدگی سے مطالعہ کریں اورآئینی اقدارکے تحفظ کے لیے آگے آئیں۔
جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مشاورتی کونسل کے رکن ڈاکٹرسلیم خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ عقیدہ اورایمان ہرفرد کا ذاتی معاملہ ہے، جسے جبریا قانونی دباؤکے ذریعہ منظم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے آئین کی جانب سے عطا کردہ جمہوری حقوق اورآزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پرزوردیا۔ اس سے قبل اے پی سی آرمہاراشٹرکے جنرل سیکریٹری شاکرشیخ نے شرکاء سیمینار کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ شہری حقوق اورآئینی تحفظات سے متعلق معاملات میں عوامی بیداری اور شرکت کی ضرورت اب پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانون کا جائزہ اس کے کمزوراورپسماندہ طبقات پرممکنہ اثرات کوسامنے رکھ کرلیا جانا چاہیے۔
معروف دانشوراورسماجی کارکن عرفان انجینئرنے کہا کہ اس قانون کے اثرات کسی ایک مذہبی برادری تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ سیکولرزم، مساوات، سماجی انصاف اوردیگربنیادی آئینی اصولوں کوبھی متاثرکرسکتے ہیں۔ اے پی سی آر نے ایک بارپھراس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ آئینی حقوق کے تحفظ، جمہوری اقدارکے فروغ اورشہری آزادیوں وسماجی انصاف سے متعلق قانون سازی کے موضوعات پرعوامی شعوربیدارکرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ اس پروگرام میں 250 سے زائد وکلا، ماہرینِ تعلیم، سماجی کارکنان، سول سوسائٹی کے نمائندوں اورمختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی شہرواطراف کی معززشخصیات نے شرکت کی۔ پروگرام کے اختتام پرجماعت اسلامی ہند ممبئی کے سیکریٹری سید شریف یونس نے مقررین، منتظمین اورشرکاء کا شکریہ ادا کیا اوراس اہم عوامی مسئلے پربامعنی گفتگوکے انعقاد کوسراہا۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







