
نئی دہلی: کابینہ کمیٹی برائے سلامتی (سی سی ایس) کا آج شام 7 بجے قومی دارالحکومت میں اہم اجلاس منعقد ہوگا، جس میں مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے پیش نظر تازہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر توانائی اور معیشت پر اس تنازع کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مغربی ایشیا میں کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت علی خامنہ ای سمیت کئی اہم شخصیات ہلاک ہوئیں، جس کے بعد ایران کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا۔ ایک ہفتہ قبل وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں بھی سی سی ایس کا اجلاس ہوا تھا، جس میں اس بحران کے اثرات اور ممکنہ حکمت عملی پر غور کیا گیا تھا۔
معیشت اور عوامی ضروریات پر غور
ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں زراعت، کھاد، غذائی تحفظ، پیٹرولیم، بجلی، ایم ایس ایم ایز، برآمدات، تجارت، مالیات اور سپلائی چین جیسے اہم شعبوں پر پڑنے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے مختلف وزارتوں اور محکموں کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات اور آئندہ کی حکمت عملی بھی زیر غور آئے گی تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹا جا سکے۔
توانائی اور غذائی تحفظ کے اقدامات
اجلاس میں اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ عام شہریوں کے لیے خوراک، ایندھن اور توانائی کی فراہمی کیسے یقینی بنائی جائے۔ قلیل مدتی، درمیانی مدتی اور طویل مدتی اقدامات پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔ خریف سیزن کے لیے کسانوں کو کھاد کی دستیابی، متبادل ذرائع اور موجودہ ذخائر کا بھی جائزہ لیا جائے گا، جبکہ بجلی گھروں میں کوئلے کے مناسب ذخائر کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ ملک میں بجلی کی کوئی کمی نہ ہو۔ یہ اجلاس بھارت کی مجموعی معاشی صورتحال اور عالمی بحران کے اثرات سے نمٹنے کے لیے آئندہ لائحہ عمل طے کرنے میں اہم ثابت ہوگا۔





