/indian-express-bangla/media/media_files/2026/03/31/stampede-2026-03-31-12-20-31.jpg)
بہار کے ضلع نالندہ میں واقع قدیم شیتلا ماتا مندر میں منگل کی صبح مچنے والی بھگدڑ نے خوشی کے ماحول کو ماتم میں بدل دیا۔ شیتلا اشٹمی اور منگل میلے کے موقع پر ہزاروں عقیدت مندوں کی بھیڑ کے درمیان اچانک افرا تفری مچنے سے 8 خواتین سمیت مجموعی طور پر 9 افراد کی موت ہو گئی، جبکہ کئی دیگر زخمی ہو گئے۔ حادثے کے بعد علاقے میں غم کی فضا قائم ہو گئی اور انتظامیہ نے فوری طور پر راحت اور بچاؤ کارروائی شروع کر دی۔ عینی شاہدین کے مطابق صبح سے ہی مندر میں عقیدت مندوں کی بڑی تعداد جمع ہونا شروع ہو گئی تھی۔ مندر کے اندر اور اطراف میں پیر رکھنے تک کی جگہ نہیں تھی۔ اسی دوران شدید گرمی، حبس اور بے ترتیبی کے باعث چند خواتین بے ہوش ہو کر گر پڑیں، جس کے بعد اچانک بھگدڑ مچ گئی۔ لوگ اپنی جان بچانے کے لیے ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہوئے نکلنے لگے، جس کے نتیجے میں کئی افراد زمین پر گر گئے اور مجمع نے انہیں روند ڈالا۔
ادثے میں زخمی ہونے والے کم از کم سات افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم ان کا علاج کر رہی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق کچھ زخمیوں کو اندرونی چوٹیں آئی ہیں اور کئی افراد شدید صدمے میں ہیں۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ زخمیوں کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ نالندہ میں پیش آنے والا حادثہ انتہائی دردناک ہے اور ان کی ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ وزیر اعظم نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی اور مقامی انتظامیہ کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی۔
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بھی واقعے پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرنے والوں کے لواحقین کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ہر متوفی کے اہل خانہ کو 6 لاکھ روپے بطور معاوضہ دیے جائیں گے۔ اس میں چار لاکھ روپے آفات انتظامیہ محکمہ اور دو لاکھ روپے وزیر اعلیٰ ریلیف فنڈ سے فراہم کیے جائیں گے۔ نتیش کمار نے زخمیوں کے علاج کا پورا خرچ ریاستی حکومت کی جانب سے برداشت کرنے کا بھی اعلان کیا۔ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے بھی حادثے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو زخمیوں کے بہتر علاج اور متاثرین کی مدد کے لیے سخت ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ مندر احاطے کو خالی کروا کر راحت اور بچاؤ کارروائی تیز کر دی گئی۔ ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا ہے کہ میلے کے دوران توقع سے کہیں زیادہ بھیڑ جمع ہو گئی تھی، جس کے باعث انتظامات ناکافی ثابت ہوئے۔ انتظامیہ اب اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ بھیڑ کو کنٹرول کرنے اور حفاظتی انتظامات میں کہاں کمی رہ گئی۔ حادثے کے بعد مندر کے اطراف میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ مقامی لوگوں نے انتظامیہ پر لاپروائی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت بھیڑ کو منظم کیا جاتا تو اتنا بڑا حادثہ نہ ہوتا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر مذہبی اجتماعات میں بھیڑ کے مؤثر انتظام اور حفاظتی اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔






