
گاندھی نگر: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو بھگوان مہاویر جینتی کے موقع پر گاندھی نگر کے کوبا تیرتھ میں واقع سمراٹ سمپرتی میوزیم کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ان کے لیے باعثِ سعادت ہے کہ وہ اس مقدس جین مقام پر حاضر ہوئے۔ انہوں نے بھگوان مہاویر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ملک بھر کے عوام کو اس تہوار کی مبارکباد دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ جین مذہب کی قدیم تعلیمات، ہندوستانی تہذیب اور ہزاروں سال پرانی وراثت کو جدید انداز میں آنے والی نسلوں تک پہنچانے کے لیے اس میوزیم کا قیام ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے جین سنتوں کی اس کوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ میوزیم جین فلسفے اور ہندوستانی ثقافت کا ایک اہم مرکز بنے گا۔
اپنے خطاب میں نریندر مودی نے کہا کہ جہاں بعض حکمرانوں نے طاقت اور تشدد کے ذریعے حکومت کی، وہیں سمراٹ سمپرتی نے عدم تشدد، سچائی اور سادگی کے اصولوں کو فروغ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اقتدار کو خدمت کا ذریعہ سمجھ کر عوام کی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان میں علم ہمیشہ آزادانہ طور پر فروغ پاتا رہا ہے اور ہر دور میں رشیوں، منی شیوں اور تیرتھنکروں نے علم کے ذخیرے میں اضافہ کیا، جس سے ملک کی علمی روایت مضبوط ہوتی گئی۔
مخطوطات کے تحفظ کے لیے اقدامات
وزیراعظم نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے قیمتی مخطوطات کے تحفظ میں غفلت برتی، تاہم موجودہ حکومت ان غلطیوں کو درست کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے ’’گیان بھارت مشن‘‘ شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے قدیم مخطوطات کو ڈیجیٹل شکل دی جا رہی ہے اور سائنسی طریقوں سے محفوظ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات میں اعلیٰ معیار کی اسکیننگ، کیمیائی عمل اور ڈیجیٹل آرکائیوز کی تیاری شامل ہے، تاکہ ملک کی علمی و ثقافتی وراثت کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھا جا سکے۔
دس عزم اور عوامی پیغام
اپنے خطاب کے اختتام پر نریندر مودی نے عوام سے دس اہم عزم اپنانے کی اپیل کی، جن میں پانی کی بچت، ایک پیڑ ماں کے نام، صفائی مہم، مقامی مصنوعات کو فروغ دینا، ملک کی سیر، قدرتی کھیتی، صحت مند طرزِ زندگی، یوگا و کھیل، غریبوں کی مدد اور ہندوستانی وراثت کے تحفظ کا عہد شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام عزم ملک کی ترقی اور سماجی بہتری کے لیے نہایت اہم ہیں اور ہر شہری کو ان کا حصہ بننا چاہیے۔ یہ تقریب نہ صرف جین مذہب کی روحانی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ ہندوستان کی قدیم تہذیبی اور علمی وراثت کے تحفظ کی کوششوں کو بھی نمایاں کرتی ہے۔
/indian-express-bangla/media/media_files/2026/03/31/stampede-2026-03-31-12-20-31.jpg)




