
نئی دہلی: ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات اب عالمی انٹرنیٹ نظام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر اس تنازع میں زیرِ سمندر بچھائی گئی انٹرنیٹ کیبلز (سب میرین کیبلز) کو نشانہ بنایا گیا تو دنیا بھر میں انٹرنیٹ سروس شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس کا اثر بھارت سمیت کئی ممالک پر پڑے گا۔ موجودہ دور میں دنیا کی تقریباً 95 سے 97 فیصد انٹرنیٹ سپلائی انہی سب میرین کیبلز کے ذریعے ہوتی ہے۔ یہ کیبلز دنیا کے مختلف ممالک کو آپس میں جوڑتی ہیں، جس کے ذریعے بینکنگ، آن لائن ادائیگیاں، ای کامرس، کلاؤڈ سروسز اور مصنوعی ذہانت (AI) کے نظام چلتے ہیں۔
ہرمز آبنائے اور بحیرہ احمر کا اہم کردار
انٹرنیٹ کیبلز کے عالمی راستے تین بڑے سمندروں بحرالکاہل، بحرِ ہند اور بحرِ اوقیانوس سے گزرتے ہیں، لیکن سب سے حساس راستہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کا ہے۔ بحرِ ہند میں واقع اس راستے کے ذریعے دنیا کے 15 سے 30 فیصد تک انٹرنیٹ ڈیٹا منتقل ہوتا ہے۔ اہم سب میرین کیبل منصوبوں میں 2افریقہ کیبل، بلو رامَن اور سی ایم وی-6 شامل ہیں، جو بھارت کو یورپ اور دیگر خطوں سے جوڑتے ہیں۔ میٹا اور گوگل کے یہ منصوبے کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں، خاص طور پر بحیرہ احمر میں کام رکا ہوا ہے۔
بھارت کے منصوبے اور متبادل راستے
بھارت میں بھارتی ایئرٹیل اور ریلائنس جیو جیسے ادارے انٹرنیٹ کیبل نیٹ ورک کو مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔ ریلائنس جیو اپنے منصوبوں میں ایسے متبادل راستے تیار کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انٹرنیٹ ٹریفک کو دوسری سمت منتقل کیا جا سکے۔ فروری 2024 میں حوثیوں کے حملوں کے باعث بحیرہ احمر میں کئی اہم کیبلز کو نقصان پہنچا تھا، جس سے ایشیا اور یورپ کے درمیان تقریباً 25 فیصد انٹرنیٹ ٹریفک متاثر ہوا۔ ان کیبلز کی مکمل مرمت میں تقریباً پانچ ماہ لگے۔ اسی طرح 2022 میں بحرالکاہل میں آتش فشاں پھٹنے سے ٹونگا ملک مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا شکار ہو گیا تھا اور بحالی میں کئی ہفتے لگے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی میں شدت آئی اور کیبلز کو نقصان پہنچا تو دنیا بھر میں انٹرنیٹ سست یا مکمل بند ہو سکتا ہے، جس سے عالمی معیشت، مالیاتی نظام اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔







