
نئی دہلی: بھارتی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے اے آئی سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز اور ڈیپ فیک کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال کے خلاف بڑا قانونی قدم اٹھاتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے اپنی شناخت، آواز اور چہرے کے غیر مجاز استعمال پر مکمل پابندی لگانے کی درخواست کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ 2025 کے آخر سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے انسٹاگرام، ایکس، یوٹیوب اور فیس بک پر ان سے منسوب جعلی ویڈیوز اور بیانات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ان ویڈیوز میں جدید ٹیکنالوجی جیسے آرٹیفیشل انٹیلیجنس، فیس سوئپنگ اور وائس کلوننگ کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ایسے بیانات دیتے دکھایا گیا جو انہوں نے کبھی نہیں دیے۔ ایک جعلی ویڈیو جس میں ان کے استعفے کا اعلان دکھایا گیا لاکھوں بار دیکھی گئی، جبکہ دیگر ویڈیوز میں انہیں سینئر کھلاڑیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے غلط انداز میں پیش کیا گیا۔
مقدمے میں متعدد افراد اور اداروں کو فریق بنایا گیا ہے، جن میں بڑے ای-کامرس پلیٹ فارمز جیسے ایمیزون اور فلپ کارٹ شامل ہیں، جہاں ان کے نام اور تصویر کے ساتھ بغیر اجازت مصنوعات فروخت کی جا رہی تھیں۔ اس کے علاوہ ٹیک کمپنیاں جیسے میٹا پلیٹ فارمز، گوگل اور یوٹیوب کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ حکومت کے آئی ٹی اور ٹیلی کام محکموں کو عدالتی احکامات کے نفاذ کے لیے شامل کیا گیا ہے۔
2.5 کروڑ ہرجانہ اور مستقل پابندی کا مطالبہ
گوتم گمبھیر نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام جعلی اکاؤنٹس اور مواد کو فوری طور پر ہٹایا جائے، آئندہ ایسے مواد کی اشاعت پر مستقل پابندی لگائی جائے اور انہیں 2.5 کروڑ روپے کا ہرجانہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی شناخت کو غلط معلومات پھیلانے اور مالی فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ قانون اور عوامی شخصیات کے حقوق کے لیے بھی خطرہ ہے۔ گوتم گمبھیر نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاملہ صرف ذاتی نقصان کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے دور میں ہر عوامی شخصیت کو اپنی شناخت کے تحفظ کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق یہ کیس مستقبل میں ڈیپ فیک اور اے آئی کے غلط استعمال سے متعلق قانونی فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔






