
نئی دہلی :بنگلورو میں ممتاز روحانی رہنما سوامی ابھیشیک برہمچاری کی قیادت میں شری ودیا کوٹی کمکم ارچنا مہایگیہ کا انعقاد کیا گیا، جو اجتماعی عبادت اور سماجی فلاح کے مقصد سے منعقد ہونے والا ایک اہم مذہبی پروگرام تھا۔اس مہایگیہ میں 10 ہزار سے زائد خواتین نے شرکت کی، جنہوں نے کمکم (سندور) کے ذریعے پوجا ادا کی اور قومی ترقی، عالمی امن اور محروم و کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے پرارتھناکی۔ سوامی ابھیشیک برہمچاری گزشتہ برسوں سے ملک بھر میں کشمیر سے کنیا کماری تک مہایگیہ منعقد کر رہے ہیں، جن کا مقصد ملک میں خوشحالی اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ بنگلورو میں منعقد ہونے والا یہ پروگرام ان کی قیادت میں ہونے والا 41واں مہایگیہ تھا، جو ان کے ہمہ گیر روحانی مشن کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔
مہایگیہ کے دوران سوامی ابھیشیک برہمچاری نے دیوی للیتا کی خصوصی عبادت کی اور ملک کی خوشحالی، امن اورعوام کی بھلائی کے لیے دعائیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ رسومات اجتماعی ترقی کو فروغ دینے اور روحانی اقدار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہیں۔انہوں نے دیوی للیتا سے غریب اور پسماندہ طبقات کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے بھی دعا کی اور کہا کہ روحانی کوششوں کے ساتھ ساتھ ضرورت مندوں کے لیے ہمدردی اور فکر بھی ضروری ہے۔
سناتن دھرم پر پیغام:
عقیدت مندوں سے خطاب کرتے ہوئے سوامی ابھیشیک برہمچاری نے کہا کہ سناتن دھرم بھارت کی اصل طاقت ہے اور یہی ملک کی ثقافتی اور روحانی شناخت کی رہنمائی کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کی روایات صدیوں سے اتحاد، صبر اور اخلاقی اقدار کو فروغ دیتی آئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مذہبی رسومات میں علامتی طور پر استعمال ہونے والے بھارت کے کمکم کی طاقت اور اہمیت اب دنیا بھر میں تسلیم کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق کمکم ارچنا میں خواتین کی وسیع شرکت ملک کی گہری عقیدت اور اجتماعی روحانی توانائی کی عکاس ہے۔بنگلورو میں منعقد ہونے والے اس مہایگیہ نے سوامی ابھیشیک برہمچاری کے اس وژن کو مزید مضبوط کیا کہ روحانی سرگرمیوں کے ذریعے امن، خوشحالی اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ پروگرام کا اختتام عالمی فلاح و بہبود اور قومی یکجہتی کے لیے دعاؤں کے ساتھ ہوا۔






