
نئی دہلی: مہاراشٹر کی راجدھانی ممبئی کی برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کو پہلی بار بی جے پی کا میئر ملنے جا رہا ہے۔ بی جے پی کی سینئر کارپوریٹر ریتو تاوڑے کو بی ایم سی کے میئر عہدے کے لیے پارٹی کا امیدوار نامزد کیا گیا ہے اور وہ اگلی میئر ہوں گی۔ پارٹی کی اہم میٹنگ میں ان کے نام کو حتمی منظوری دی گئی، جس کے بعد کارکنوں میں جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔ ریتو تاوڑے ایک تجربہ کار کارپوریٹر ہیں۔ وہ پہلی بار سال 2012 میں وارڈ نمبر 127 سے منتخب ہو کر کارپوریشن میں آئیں۔ اس کے بعد 2017 میں وہ گھاٹ کوپر کے وارڈ نمبر 121 سے کامیاب ہوئیں۔ حالیہ 2025 کے انتخابات میں انہوں نے وارڈ نمبر 132 سے جیت درج کی۔ وہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کی ایجوکیشن کمیٹی کی چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں اور بلدیاتی امور میں ان کے تجربے کو اہم مانا جا رہا ہے۔
بی جے پی کی میٹنگ میں ریتو تاوڑے کے نام کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر شیواجی مہاراج کی جےکے نعرے بھی لگائے گئے۔ ریتو تاوڑے گھاٹکوپر علاقے سے تین بار منتخب ہونے والی کارپوریٹر ہیں اور اپنے ملنسار رویے کے لیے جانی جاتی ہیں۔دوسری جانب، اتحادی شیوسینا شندے گروپ کو نائب میئر کا عہدہ دیا گیا ہے۔ پارٹی کے سنجے شنکر گھاڑی نائب میئر ہوں گے، جس پر میٹنگ میں اتفاق ہو گیا۔ بی جے پی کے سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود شیوسینا شندے گروپ کی نظریں نائب میئر کے عہدے پر تھیں، کیونکہ عددی لحاظ سے ان کا تعاون حکومت سازی کے لیے ضروری تھا۔
بی ایم سی میں اکثریت کے لیے 114 نشستوں کی ضرورت ہے۔ بی جے پی کو 89 نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جبکہ شندے گروپ کی شیوسینا کے پاس 29 نشستیں ہیں۔ ان دونوں کے اتحاد سے اکثریتی ہندسہ عبور ہو گیا ہے۔ اسی لیے شندے گروپ کو اقتدار میں شراکت دی گئی ہے۔ انتخابی نتائج کے مطابق، دوسری طرف شیوسینا کے ادھو ٹھاکرے گروپ نے 65 نشستیں جیتی ہیں۔ مہاراشٹر نونرمَن سینا کو 6 نشستیں اور شرد پوار گروپ کی این سی پی کو ایک نشست ملی ہے۔ ان نتائج کے بعد بی ایم سی کی سیاست میں طاقت کا توازن واضح ہو گیا ہے اور آنے والے دنوں میں بلدیاتی سیاست مزید دلچسپ رہنے کی امید ہے۔





