
نئی دہلی: مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں عام بجٹ پیش کیا، جس میں معیشت کی ترقی کو رفتار دینے پر زور دیا گیا ہے، تاہم انکم ٹیکس سلیب میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اس بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے سخت تنقید کی اور اسے غریب مخالف بجٹ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں مہنگائی، بے روزگاری اور غربت جیسے بنیادی مسائل کا کوئی مؤثر حل پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس میں کوئی نیا وژن دکھائی دیتا ہے۔ ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ یہ لگاتار نواں موقع ہے جب نرملا سیتارمن نے بجٹ پیش کیا، مگر اس کے باوجود حکومت کے پاس عوام کو راحت دینے کے لیے کوئی تازہ منصوبہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ بجٹ ملک کی اہم اقتصادی، سماجی اور سیاسی چیلنجز کو حل کرنے کے بجائے مزید سوالات کھڑے کرتا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اس بجٹ میں غریبوں کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی ٹھوس روڈ میپ نظر نہیں آتا۔
انگریس صدر نے الزام لگایا کہ بجٹ میں نہ تو صارفین کی مانگ بڑھانے کے لیے کوئی اقدام کیا گیا ہے اور نہ ہی متوسط طبقے کو ریلیف دینے کا کوئی منصوبہ سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی سروے خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری دنیا میں غیر یقینی صورتحال بھارت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، مگر بجٹ میں اس مسئلے پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ اسی طرح روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ کے باوجود حکومت کے پاس اس سے نمٹنے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے۔ ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ گھریلو بچت میں کمی اور ذاتی قرضوں کے بڑھتے بوجھ کو بھی مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، مگر بجٹ میں اس بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی پیش نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومتیں پہلے ہی شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں، لیکن بجٹ میں ان کے لیے کسی بڑے ریلیف یا خصوصی پیکیج کا اعلان نہیں کیا گیا۔
کانگریس صدر نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ملک میں عدم مساوات کی سطح برطانوی دور سے بھی آگے نکل چکی ہے، مگر بجٹ میں اس کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات، اقتصادی طور پر کمزور طبقات اور نہ ہی اقلیتوں کے لیے کسی خاص امدادی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ بجٹ سماجی انصاف کے اصولوں سے مکمل طور پر خالی ہے۔ ملکارجن کھڑگے نے مزید کہا کہ حکومت نے پچھلے مالی سال میں تعلیم، صحت اور سماجی انصاف جیسے اہم شعبوں کے لیے مختص بجٹ کا مکمل استعمال تک نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا نعرہ ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ ہے، مگر بجٹ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تعلیم کے شعبے میں نہ صرف خرچ کم کیا گیا بلکہ مجموعی بجٹ میں بھی کٹوتی کی گئی ہے۔
انہوں نے طلبہ کی اسکالرشپ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ سابقہ حکومتیں تعلیم، صحت اور طلبہ کی مدد کو ترجیح دیتی تھیں، مگر موجودہ بجٹ میں وزیرِ خزانہ نے ایک بار بھی اسکولوں کا ذکر نہیں کیا۔ سماجی تحفظ اور فلاحی اسکیموں کے حوالے سے بھی کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ منریگا کی جگہ لائے گئے نئے قانون کے لیے مختص بجٹ پر بھی کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔ آخر میں کانگریس صدر نے کہا کہ یہ ایک تھکی ہوئی اور ریٹائر ہو چکی حکومت کا بجٹ ہے، جو نہ تو عوام کو راحت دینا چاہتی ہے اور نہ ہی پہلے سے مختص فنڈز کو صحیح طریقے سے خرچ کرتی ہے۔ ان کے مطابق یہ بجٹ عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہا ہے۔






