
اُنّاؤ ریپ کیس میں دہلی ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے قصوروار سابق رکنِ اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کی سزا معطل کرتے ہوئے ضمانت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب اس فیصلے کی سی بی آئی اور متاثرہ کے اہلِ خانہ نے سخت مخالفت کی ہے۔ سی بی آئی نے طے کیا ہے کہ وہ جلد ہی سپریم کورٹ میں ایس ایل پی (SLP) دائر کر کے اس حکم کو چیلنج کرے گی۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس نے ہائی کورٹ کے احکامات کا مطالعہ کر لیا ہے اور جلد از جلد اعلیٰ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔
متاثرہ خاندان کا مؤقف کیا ہے؟
متاثرہ کے خاندان نے ہائی کورٹ میں ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں اور ان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ وکیل محمود پراچا نے بھی کہا کہ یہ ضمانت قانون کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سینگر اپنے کیے گئے جرائم کے بعد بھی رحم کا حق دار ہے، جب کہ اس پر پہلے ہی حملے کرانے کے الزامات موجود ہیں۔
حکومتوں پر بھی الزامات
پراچا نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت دونوں ہی عدالت کے اندر اور باہر پوری طاقت سے ان کی مخالفت کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سینگر نے پہلے ہی پولیس کے ایک ایس ایچ او کے ذریعے متاثرہ کے والد کا قتل کروایا تھا، ایسے میں فاصلے یا علاقے کی کوئی حد معنی نہیں رکھتی۔
سپریم کورٹ سے کم امید
وکیل نے مزید کہا کہ متاثرہ کی سیکیورٹی ہٹانے اور اس کے خلاف مقدمات قائم کرنے کے لیے بڑے وکلا کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مانا کہ اس لڑائی میں بغیر مکمل تیاری کے جانا درست نہیں ہوگا، لیکن اگر عوام اپنی آواز بلند کریں تو انصاف ملنے کی امید ہے۔ تاہم انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ انہیں سپریم کورٹ سے بہت کم امید ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اُنّاؤ کیس میں ہائی کورٹ کے فیصلے نے متاثرہ اور اس کے خاندان کی تشویش بڑھا دی ہے اور اب سب کی نظریں سپریم کورٹ پر مرکوز ہیں۔







