
نئی دہلی کے بھیم حال (ڈی اے آئی سی) میں 26 نومبر 2025 کو ڈاکٹر امبیڈکر فاؤنڈیشن کی جانب سے منعقدہ سمویدھان @75 کے قومی کنونشن کی اختتامی تقریب میں بھارت کے سابق چیف جسٹس جسٹس بی آر گَوائی نے آئین کے 76ویں سال کے موقع پر قوم سے خطاب کیا۔ تقریب میں اعلیٰ سرکاری افسران، مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر، امبیڈکر چیئر کے سربراہ، طلبہ اور وکلاء بڑی تعداد میں موجود تھے۔
یومِ آئین کی مبارکباد
سابق جسٹس گَوائی نے سب سے پہلے سب کو 76ویں یومِ آئین کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ آئین ہر بھارتی کا سب سے مقدس دستاویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”مذہبی گرنتھ مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن بھارتی شہریوں کے لیے سب سے مقدس گرنتھ ہمارا آئین ہے“۔ انہوں نے آئین سازوں کی دو سال کی سخت محنت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ہمیشہ ان کی خدمات اور قربانیوں کے لیے شکر گزار رہنا چاہیے۔
آئین کی عہد اور بنیادی ستون
انہوں نے کہا کہ آئین کو سب سے پہلے مہاراشٹر کے اسکولوں میں حلف یا عہد کے طور پر پڑھنے کی روایت شروع کی گئی تھی اور آج اسے پورے ملک میں اپنایا جا رہا ہے۔ آئین چار بنیادی ستونوں — برابری، آزادی، انصاف اور اخوت پر قائم ہے۔ اسی بنیاد پر اس کانفرنس کا تھیم ”Living Constitution: 75 Years of Democracy, Dignity and Development“ رکھا گیا تھا۔
ترمیمی عمل پر بحث
سابق جسٹس گَوائی نے بتایا کہ آئین میں ترمیمی عمل پر دستور ساز اسمبلی میں طویل بحث ہوئی تھی۔ ڈاکٹر امبیڈکر پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ ترمیمی عمل یا تو بہت سخت ہے یا بہت زیادہ لچکدار، لیکن انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ آنے والی نسلوں کو کن چیلنجز کا سامنا ہوگا، اس کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔ لہٰذا وقت کے ساتھ آئین میں تبدیلی کی گنجائش رکھنا ضروری ہے۔
اہم ترامیم اور تاریخی واقعات
انہوں نے کئی اہم واقعات اور آئینی ترامیم کا ذکر کیا: سال 1951 کی پہلی ترمیم کے ذریعے اظہارِ رائے کی آزادی پر ”مناسب پابندیوں“ کو شامل کیا گیا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ریزرویشن کو مسترد کیے جانے کے بعد آرٹیکل 15 میں ترمیم کر کے ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کے لیے خصوصی انتظامات شامل کیے گئے۔ زرعی اصلاحات اور زمینداری کے خاتمے کو تحفظ دینے کے لیے نومیں شیڈول (نویں فہرست) شامل کی گئی۔
سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے
انہوں نے سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلوں پر بھی گفتگو کی۔ شَنکرا پرساد، سَجّن سنگھ اور گولک ناتھ جیسے مقدمات کے بعد 1973 کا کیشوانند بھارتی کیس بھارتی جمہوریت کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا تھا۔ اسی فیصلے نے Basic Structure Doctrine (بنیادی ڈھانچہ نظریہ) کو جنم دیا، جس کے مطابق پارلیمنٹ آئین میں ترمیم تو کر سکتی ہے، لیکن اس کی بنیادی روح یا بنیادی ساخت کو تبدیل نہیں کر سکتی۔
پارلیمنٹ کی اہم ترامیم
انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ دہائیوں میں پارلیمنٹ نے وقتاً فوقتاً کئی اہم ترمیمات کیں، جن میں شامل ہیں:
قانونی معاونت کا حق (آرٹیکل 39اے)
ماحولیات کے تحفظ سے متعلق ترمیم (آرٹیکل 48اے)
دسویں شیڈول (دَل بدل مخالف قانون)
پنچایتی راج کو آئینی درجہ دینا
ریزرویشن سے متعلق ترمیمات
ای ڈبلیو ایس ریزرویشن (اقتصادی طور پر کمزور طبقات کا کوٹا)
سال 2024 کا خواتین ریزرویشن قانون
بنیادی حقوق کی توسیع
سپریم کورٹ کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1973 کے بعد عدالتوں نے بنیادی حقوق اور اصولِ رہنمائی (Directive Principles) دونوں کو برابر اہمیت دی۔ مَینکا گاندھی کیس کے بعد کئی نئے بنیادی حقوق کا ارتقاء ہوا، جن میں شامل ہیں: عزت و وقار کے ساتھ جینے کا حق، صاف ہوا اور پاک پانی کا حق، تعلیم کا حق، پرائیویسی (نجی زندگی) کا حق وغیرہ۔
ترقی اور ماحولیات کا توازن
انہوں نے کہا کہ ملک کو ترقی بھی چاہیے اور ماحولیات کا تحفظ بھی ضروری ہے، اسی لیے عدالتوں نے ہمیشہ پائیدار ترقی (Sustainable Development) پر زور دیا ہے۔
اسی سلسلے میں آخر میں سابق جسٹس گَوائی نے کہا کہ ہم نے 76 سالوں میں بہت کچھ حاصل کیا ہے، لیکن ابھی بھی لمبا سفر باقی ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ ”آئیے ہم سب عہد کریں کہ ہم آئین کی قدروں مساوات، انصاف، آزادی اور اخوت کو ہمیشہ آگے بڑھاتے رہیں گے“۔






