
ریانہ کانگریس کے کارگزار صدر رام کشن گجر نے پارٹی کی بنیادی رکنیت اور اپنے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ کانگریس کے قومی صدر ملیکارجن کھڑگے کو بھیج دیا ہے۔ یہ قدم راجیہ سبھا انتخابات کے نتائج کے بعد سامنے آیا، جہاں پارٹی کے کچھ رکن اسمبلی پر کراس ووٹنگ کے الزامات لگے ہیں۔ ہریانہ میں حال ہی میں راجیہ سبھا کی دو نشستوں کے لیے انتخابات ہوئے، جن میں الزام ہے کہ کانگریس کے کچھ ارکان نے اپنی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینے کے بجائے بی جے پی کے حمایت یافتہ امیدوار کو ووٹ دیا۔ ذرائع کے مطابق، رام کشن گرجر کی اہلیہ اور شیلی چودھری نارائن گڑھ سے رکن اسمبلی ہیں اور ان پر بھی کراس ووٹنگ کرنے کا الزام ہے۔
چند حلقوں کی اطلاعات کے مطابق شیلی چودھری بھی جلد پارٹی سے استعفیٰ دے سکتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شیلی چودھری سمیت پانچ رکن اسمبلی پر کراس ووٹنگ کے الزامات ہیں اور کانگریس پارٹی ان کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔ رام کشن گجر نے اپنے استعفے میں واضح کیا کہ وہ پارٹی کی تمام ذمہ داریوں سے آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ انہیں سابق مرکزی وزیر کماری شیلجا کا انتہائی قریبی ساتھی مانا جاتا ہے۔
ہریانہ کے راجیہ سبھا انتخابات میں ایک نشست کانگریس اور ایک بی جے پی کے حصے میں گئی ہے۔ بی جے پی کے سنجے بھاٹیہ نے 39 ووٹ حاصل کر کے جیت درج کی، جبکہ کانگریس کے کرم ویر بودھ کو 28 ووٹ ملے۔ آزاد امیدوار ستیش ناندل نے 16 ووٹ حاصل کیے۔ انتخابات میں پانچ ووٹ کراس ووٹنگ کے زمرے میں آئے۔
گنتی تقریباً پانچ گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوئی اور رات تقریباً دو بجے نتائج کا اعلان کیا گیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق رام کشن گجر کا استعفیٰ کانگریس کے اندرونی اتحاد اور راجیہ سبھا میں پارٹی کی حکمت عملی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ اس واقعے کے بعد کانگریس کے مستقبل کی پالیسیوں اور پارٹی قیادت کی سمت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔





