
نئی دہلی: دہلی کے لال قلعہ کے قریب 10 نومبر کو ہونے والے تباہ کن خودکش کار بم دھماکے کی تحقیقات میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے بڑی پیش رفت کرتے ہوئے گرفتار ملزمین میں سے ایک ڈاکٹر شاہین سعید کو اہم پوچھ گچھ کے لیے ہریانہ کے فرید آباد منتقل کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شاہین کا تعلق اترپردیش کے لکھنؤ سے ہے اور وہ سات گرفتار مشتبہ افراد میں شامل ہیں، اس دھماکے میں 15 افراد کی جان گئی تھی اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ ایجنسی کا ماننا ہے کہ شاہین اور دیگر گرفتار افراد نے اس دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی اور اس کی انجام دہی میں اہم کردار ادا کیا، جس کے بعد گزشتہ چند ماہ میں سب سے بڑی انسدادِ دہشت گردی کارروائی شروع کی گئی۔
20 نومبر کو این آئی اے نے شاہین کے ساتھ ڈاکٹر مزمل شکیل گنائی (پلوامہ، جموں و کشمیر)، ڈاکٹر عدیل احمد (اننت ناگ، جموں و کشمیر) اور مفتی عرفان احمد وگے (شوپیاں، جموں و کشمیر) کو بھی گرفتار کیا تھا۔ انہیں پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے پروڈکشن آرڈر پر سری نگر میں حراست میں لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق شاہین کو فریدآباد اس لیے لے جایا گیا تاکہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے سلسلے میں کچھ اہم سراغوں کی تصدیق کی جا سکے، کیونکہ دھماکے سے کچھ ہی دیر پہلے فریدآباد سے تقریباً 2900 کلو دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا تھا۔ دھماکے میں استعمال ہونے والی ہنڈائی آئی20 کار بھی اسی علاقے کے ایک مقامی ڈیلر سے جڑی ہوئی پائی گئی۔
شاہین سے فریدآباد میں دیگر ملزمین اور ساتویں ملزم ایوب عرف شعیب (رہائشی: دھوج، فریدآباد) سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنا پر تفتیش کی گئی۔ این آئی اے کے مطابق شعیب نے بمبار عمر ان نبی کو حملے سے کچھ وقت پہلے پناہ اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی تھی۔ پوچھ گچھ کے دوران شعیب نے این آئی اے کو بتایا کہ اُس نے نہ صرف عمر کو اپنے پاس رکھا بلکہ حملے سے پہلے اس کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کی۔ این آئی اے کے مطابق کیس کی تفتیش میں اب تک جمع ہونے والے شواہد نے ایجنسی کو حملے کے پورے نیٹ ورک اور اس کے آپریشنل میکانزم تک پہنچنے میں مدد دی ہے۔
ایجنسی مختلف ریاستوں میں چھاپے مار رہی ہے اور مقامی پولیس کے ساتھ مل کر سازش میں شامل دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔ اپنی تیز رفتار کارروائی میں این آئی اے نے اس سے پہلے دو اور افراد عامر رشید علی (جس کے نام سے حملے میں استعمال ہونے والی کار رجسٹر تھی) جاسر بلال وانی عرف دانش (جس نے مبینہ طور پر تکنیکی مدد فراہم کی) کو گرفتار کیا تھا۔ اب تک این آئی اے ساتوں گرفتار ملزمین سے سامنا کروا چکی ہے۔
مرکزی وزارتِ داخلہ کی ہدایت کے بعد این آئی اے نے کیس سنبھالا اور اگلے ہی روز بڑے پیمانے پر تلاشی مہم چلائی۔ تحقیق سے پتا چلا کہ عامر رشید علی دہلی آیا تھا تاکہ کار خریدنے میں مدد کر سکے، جسے بعد میں آئی ای ڈی سے بھری کار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ فارنسک جانچ میں کار میں موجود ہلاک ڈرائیور کی شناخت عمر کے طور پر ہوئی، جو پلوامہ کا رہنے والا اور الفلاح یونیورسٹی (فریدآباد) میں اسسٹنٹ پروفیسر تھا۔
این آئی اے نے عمر کی ایک اور گاڑی کو قبضے میں لیا ہے، جس کی باریکی سے جانچ جاری ہے۔ اب تک 73 گواہوں کے بیانات درج کیے جا چکے ہیں، جن میں دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد بھی شامل ہیں۔ این آئی اے دہلی پولیس، جموں و کشمیر پولیس، ہریانہ پولیس، اتر پردیش پولیس اور دیگر ایجنسیوں کے ساتھ مل کر پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے تفتیش کو تیز رفتار انداز میں آگے بڑھا رہی ہے۔






