نئی دہلی: حکومت کی جانب سے پیر کو جاری اعداد و شمار کے مطابق اگست میں خوردہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ صارفین کی ٹوکری میں شامل کھانے پینے کی اشیا اور دیگر اہم اجزا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کا دباؤ بڑھا۔ اگست میں پیاز کی مہنگائی کی شرح جولائی کے 22.54 فیصد سے بڑھ کر 48.27 فیصد ہوگئی۔ اسی طرح لہسن کی مہنگائی بھی 35.36 فیصد سے بڑھ کر 43.60 فیصد تک پہنچ گئی۔ تاہم ادرک کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی۔ ادرک کی مہنگائی کی شرح جولائی کے 83.57 فیصد سے کم ہوکر اگست میں 73.82 فیصد رہی۔
غذائی مہنگائی 5.95 فیصد تک پہنچی
کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں اگست میں بھی مہنگائی بڑھانے کی بڑی وجہ رہیں۔ خوردہ غذائی مہنگائی جولائی کے 5.52 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 5.95 فیصد ہوگئی۔ اعداد و شمار کے مطابق اگست میں دیہی علاقوں میں غذائی مہنگائی کی شرح 5.64 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 6.13 فیصد رہی۔ چینی کی قیمتیں بھی اگست میں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں، جس کا اثر مجموعی مہنگائی پر پڑا۔ گھریلو قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے بھارت کی جانب سے چینی کی برآمد پر عائد پابندی، جو مئی میں شروع ہوئی تھی، ستمبر کے اختتام تک نافذ رہے گی۔
ٹماٹر اور آلو نے دی کچھ راحت
دوسری جانب کئی سبزیوں کی قیمتوں میں کمی نے کھانے پینے کی اشیا کی مجموعی مہنگائی کے دباؤ کو کچھ کم کیا۔ اگست میں ٹماٹر کی قیمتوں میں 31.09 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ جولائی میں اس کی قیمتوں میں 4.60 فیصد کمی ہوئی تھی۔ آلو کی مہنگائی کی شرح منفی 13.14 فیصد رہی، اگرچہ جولائی میں یہ منفی 16.56 فیصد تھی۔ بھِنڈی کی قیمتوں میں بھی 5.41 فیصد کمی ہوئی، جو جولائی میں ریکارڈ کی گئی 5.50 فیصد کمی کے تقریباً برابر ہے۔
مانسون اور زرعی پیداوار پر رہے گی نظر
مہنگائی کا رجحان بڑی حد تک جنوب مغربی مانسون اور غذائی پیداوار کے اندازوں پر منحصر رہے گا۔ معمول کے مطابق مانسون سے فصلوں کی پیداوار بہتر ہونے اور کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے برعکس غیر معمولی بارش یا موسم میں خرابی سے اہم زرعی اجناس کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں بھی بھارت کے لیے ایک بڑا خطرہ بنی ہوئی ہیں، کیونکہ ملک اپنی ضرورت کے لیے درآمد شدہ خام تیل پر کافی حد تک منحصر ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ گھریلو ایندھن اور ٹرانسپورٹ کی لاگت بڑھانے کے ساتھ ساتھ روپے پر دباؤ ڈال سکتا ہے، جس سے درآمدی مہنگائی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
مالی سال 2027 میں مہنگائی کا اندازہ
ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے مالی سال 2027 کے لیے مہنگائی کا اندازہ 5.1 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کردیا ہے۔ مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) نے 5 اگست کو ہونے والی میٹنگ میں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نرمی اور سپلائی سے متعلق دباؤ کم ہونے کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا تھا۔ RBI نے پہلی سہ ماہی (Q1) کے لیے صارف قیمت اشاریہ (CPI) مہنگائی کا اندازہ 4.2 فیصد سے کم کرکے 4.1 فیصد اور دوسری سہ ماہی (Q2) کا اندازہ 5.1 فیصد سے کم کرکے 4.7 فیصد کردیا۔ تیسری سہ ماہی (Q3) کے لیے مہنگائی کا اندازہ 5.9 فیصد پر برقرار رکھا گیا، جبکہ چوتھی سہ ماہی (Q4) کا اندازہ 5.4 فیصد سے بڑھا کر 5.5 فیصد کردیا گیا۔ مرکزی بینک کے مطابق مہنگائی کے منظرنامے سے متعلق خطرات فی الحال متوازن ہیں۔ RBI کو توقع ہے کہ قلیل مدت میں مجموعی مہنگائی میں اضافہ ہوگا، تیسری سہ ماہی میں یہ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ سکتی ہے اور اس کے بعد اس میں کمی کا امکان ہے۔ RBI نے مالی سال 2027 کے لیے بنیادی مہنگائی (کور انفلیشن) کا اندازہ بھی 4.7 فیصد سے کم کرکے 4.3 فیصد کردیا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







