نئی دہلی : ابوسلیم کی رہائی کی درخواست سپریم کورٹ نے مسترد کر دی ہے۔ 2005 میں بھارت لائے گئے، ابوسلیم نے رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ جیل میں اچھے برتاؤ کی وجہ سے اسے 2 سال 9 ماہ سے زیادہ کی سزا میں چھوٹ مل چکی ہے۔ اس طرح اس کا کہنا تھا کہ حوالگی کی شرائط کے مطابق وہ بھارت میں 25 سال کی قید مکمل کر چکا ہے۔1993 کے ممبئی بم دھماکوں کے معاملے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ابوسلیم کا کہنا تھا کہ اسے 11 نومبر 2005 کو پرتگال سے بھارت لایا گیا تھا۔ بھارت حکومت نے پرتگال کو یقین دہانی کرائی تھی کہ اسے 25 سال سے زیادہ کی سزا نہیں دی جائے گی۔ 2022 میں سپریم کورٹ نے بھی کہا تھا کہ 25 سال کی سزا مکمل ہونے کے بعد وہ رہائی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
وکیل رشی ملہوترا نے کیا دلیل دی؟
ابوسلیم کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل رشی ملہوترا نے دلیل دی کہ جیل میں اچھے برتاؤ کے لیے ملی سزا میں چھوٹ اور مقدمے کی کارروائی کے دوران جیل میں گزاری گئی مدت کو شامل کرنے کے بعد اس کی 25 سال کی سزا مکمل ہو چکی ہے۔ملہوترا نے یہ بھی کہا کہ اب ابوسلیم کو جیل میں رکھنا غیر قانونی حراست کے مترادف ہے اور یہ اس کے آئینی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے ان دلائل کو مسترد کر دیا۔ ججوں نے کہا کہ بمبئی ہائی کورٹ کی جانب سے کی گئی گنتی کے مطابق ابوسلیم کی سزا ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔
پہلے بھی کر چکا ہے رہائی کی کوشش
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ابوسلیم نے رہائی کے لیے عدالت کا رخ کیا ہو۔ اس سے قبل بھی وہ مختلف درخواستیں دائر کرکے رہائی کی کوشش کرتا رہا ہے۔اسی سال 16 فروری کو سپریم کورٹ نے اس کی ایک درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ناسک جیل سے حاصل دستاویزات کی بنیاد پر ہائی کورٹ اس معاملے کی سماعت کرے گا۔ہائی کورٹ کو جلد سماعت کی ہدایت دینے سے بھی سپریم کورٹ نے انکار کر دیا تھا۔ اس موقع پر عدالت نے کہا تھا، ’’آپ کو ٹاڈا کے تحت سزا ملی ہے، سماج کا کوئی بھلا کرنے کے لیے نہیں۔‘‘
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







