
نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بڑی تعداد میں طلبہ نے جامعہ نگر تھانے پہنچ کر یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر مہتاب عالم رضوی کے خلاف مبینہ طور پر نشر کیے جانے والے قابل اعتراض اور ہتک آمیز الزامات کے سلسلے میں شکایت درج کرنے اور پورے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ طلبہ نے بھوپیندر پال سنگھ چوہان اور حارث الحق کے خلاف شکایت دیتے ہوئے نشر کیے جانے والے مواد کی صداقت اور اس کے ماخذ کی جانچ کا مطالبہ کیا۔ طلبہ کا الزام ہے کہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے رجسٹرار کے بارے میں ایسا مواد نشر کیا جا رہا ہے جس میں مناسب حقائق اور سیاق و سباق کا فقدان ہے۔ انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ یہ مواد کہاں سے نشر ہوا، اس میں کیے گئے دعوے کس حد تک درست ہیں اور کیا اس عمل میں کسی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
طلبہ نے یہ بھی کہا کہ رجسٹرار کے حق میں پہلے ہی ایک سول عدالت کا حکم آ چکا ہے۔ ان کے مطابق عدالت نے متنازع الزامات سے متعلق مواد کی اشاعت و تشہیر پر روک لگائی ہے اور رجسٹرار کی تقرری اور ترقی کو یونیورسٹی کے مقررہ قانونی طریقۂ کار کے تحت کیے جانے کا ذکرکیا ہے۔ حکم میں پابندی کے باوجود متعلقہ مواد کے مزید نشر کیے جانے کی صورت میں توہینِ عدالت کی کارروائی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
تنقید پر پابندی نہیں، لیکن الزامات کی تصدیق ضروری
مظاہرے میں شامل طلبہ نے واضح کیا کہ ان کا مقصد جائز تنقید کو روکنا نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سنگین الزامات کو حقائق کے طور پرپیش کیے جانے سے قبل ان کی سچائی کی جانچ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تقرری، ترقی اور انتظامی فیصلوں جیسے معاملات یونیورسٹی کے مقررہ قواعد اور قانونی طریقۂ کار کے تحت آتے ہیں اور ان کے بارے میں شکایت کے لیے مناسب ادارہ جاتی فورم موجود ہیں۔ طلبہ نے سوشل میڈیا پرنامکمل یا غیر مصدقہ معلومات کے تیزی سے پھیلاؤ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعہ کوئی بھی الزام چند ہی منٹوں میں بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ اس کی حقائق پر مبنی جانچ میں وقت لگ سکتا ہے۔ طلبہ کے مطابق رجسٹرار سے متعلق نشر کیے جانے والے مواد میں کئی باتوں کو ان کے اصل سیاق و سباق سے ہٹ کرپیش کیا گیا ہے۔
طلبہ نے کہا کہ کسی سینئر یونیورسٹی عہدیدار پر لگائے گئے غیر مصدقہ الزامات صرف متعلقہ شخص کی ساکھ کو متاثر نہیں کرتے بلکہ پورے ادارے کی شبیہ اور وقار پر بھی اثر ڈالتے ہیں۔ انہوں نے جامعہ کی ساکھ کے تحفظ کو طلبہ اور یونیورسٹی برادری کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیا۔ طلبہ کا پولیس سے بنیادی مطالبہ ہے کہ رجسٹرار کے خلاف لگائے گئے الزامات اور انہیں نشر کرنے کے لیے استعمال کیے گئے مواد کی قانونی دائرے میں تحقیقات کی جائیں۔ اگر تحقیقات میں کسی قانونی شق کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ طلبہ نے کہا کہ یونیورسٹی اور اس کے عہدیداروں سے متعلق تنازعات کو الزام تراشی اورجوابی الزام کے بجائے حقائق، شواہد، غیرجانب دارانہ تحقیقات اور مقررہ قانونی وادارہ جاتی طریقۂ کارکی بنیاد پرحل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اظہارِخیال کا ایک اہم ذریعہ ہے، لیکن اس کی وسیع رسائی کے باعث غیر مصدقہ معلومات کے تیزی سے پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ اس لیے کسی بھی الزام کو نشر یا شیئر کرنے سے قبل اس کی سچائی کی جانچ ضروری ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






