
کھرگون (مدھیہ پردیش): انسانی اور شہری حقوق کے لیے قانونی لڑائی لڑنے والی تنظیم ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کو ایک مرتبہ پھر بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔اے پی سی آر نے مدھیہ پردیش کے ضلع کھرگون کی چوتھی ایڈیشنل سیشنز عدالت (مندلیشور) کے اس اہم فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں سیشنز ٹرائل نمبر 75/2022 (کرائم نمبر 237/2022، تھانہ کھرگون) میں نامزد تمام گیارہ ملزمان کو تمام الزامات سے عدالت کے ذریعے باعزت بری کر دیا گیا۔
کیا تھا پورا معاملہ ؟
دراصل 10 اپریل 2022 کو رام نومی جلوس کے دوران بھٹواڑی محلہ، کھرگون میں پیش آنے والے فرقہ وارانہ تشدد سے متعلق داخل تھا۔ استغاثہ کا الزام تھا کہ مسلم نوجوانوں کے ایک گروہ نے ہندو آبادی پر پتھراؤ، آتش گیر مادوں سے حملہ، املاک کو نقصان پہنچانے، فساد، آتش زنی، مجرمانہ سازش، غیر قانونی داخلہ اور دھماکہ خیز مواد سے متعلق جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔مقدمے کے دوران اے پی سی آر کی جانب سے ایڈووکیٹ ریکھا شریواستو نے ملزمان کی پیروی کی اور مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا کہ استغاثہ کے الزامات قابلِ اعتماد شواہد سے ثابت نہیں ہوتے اور فوجداری قانون کے تقاضوں کے مطابق جرم کو شک سے بالاتر ثابت کرنے میں مکمل ناکام رہے ہیں۔
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے تمام شواہد اور گواہیوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنا فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کسی بھی ملزم کے خلاف الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ مقدمے کے دوران استغاثہ کے تیرہ گواہان پیش ہوئے، جن میں سے آٹھ، بشمول تقریباً تمام شکایت کنندگان، عدالت میں اپنے سابقہ بیانات کی تائید نہ کر سکے اور کسی بھی ملزم کی شناخت کرنے میں ناکام رہے۔عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ استغاثہ کا مقدمہ بنیادی طور پر ایک واحد مبینہ چشم دید گواہ کی گواہی پر منحصر تھا، تاہم اس کی گواہی میں واقعے کے وقت، حملہ آوروں کی تعداد اور ان کے چہروں کے ڈھکے ہونے یا نہ ہونے سے متعلق نمایاں تضادات موجود تھے۔ مزید برآں، اس گواہ کا بیان واقعے کے اکیاون (51) دن بعد بغیر کسی معقول وجہ کے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ایف آئی آر اور ابتدائی تحریری شکایت میں اسے چشم دید گواہ کے طور پر نامزد بھی نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں اس امر کو بھی اہم قرار دیا
فیصلے میں عدالت نے اس امر کو بھی اہم قرار دیا کہ ملزمان کی شناخت متنازع ہونے کے باوجود پولیس نے ٹیسٹ آئیڈینٹیفکیشن پریڈ نہیں کرائی۔ علاوہ ازیں، فرانزک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی رپورٹ میں ضبط شدہ مواد پر پٹرول، ڈیزل یا مٹی کے تیل کے کوئی آثار نہیں ملے، جس سے پٹرول بموں اور دھماکہ خیز مواد سے متعلق الزامات بھی کمزور ثابت ہوئے۔ان تمام قانونی اور شواہدی نقائص کی بنیاد پر عدالت نے تمام گیارہ ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے تمام الزامات سے باعزت بری کر دیا۔قابلِ ذکر ہے کہ مقدمے کی کارروائی کے دوران ملزمان 462 سے 827 دن تک مختلف ادوار میں جیل میں قید رہے۔اے پی سی آر کے نیشنل سکریٹری ندیم خان نے اس فیصلے کو آئین کے تحت منصفانہ سماعت، قانونی عمل اور قانون کے مساوی تحفظ کے اصولوں کی فتح قرار دیتے ہوئے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ مذہب یا شناخت سے بالاتر ہو کر غلط مقدمات کا سامنا کرنے والے افراد کو قانونی معاونت فراہم کرتی رہے گی اور شہریوں کے بنیادی و آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







