
نئی دہلی: یوکرین کی وزارتِ خارجہ نے کالا سمندر میں روسی بندرگاہوں کی جانب جانے اور وہاں سے آنے والے غیر ملکی تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات کے حوالے سے ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے بھارت سمیت اپنے بین الاقوامی شراکت دار ممالک سے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔وزارتِ خارجہ کے مطابق 2025 اور 2026 کے دوران کالا سمندر میں روسی حملوں کے نتیجے میں کئی عام شہری ہلاک ہوئے، جن میں ملاح، بحری پائلٹ اور تجارتی جہازوں کے عملے کے ارکان شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یوکرین کی بندرگاہی تنصیبات اور سمندری برآمدی راہداری استعمال کرنے والے متعدد تجارتی جہاز بھی حملوں کی زد میں آئے۔بھارت میں یوکرین کے سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ روس کی جارحانہ کارروائیوں کے باعث کالا سمندر اور بحیرہ آزوف میں شہری جہاز رانی کو لاحق خطرات کو بروقت حفاظتی اقدامات اور انتباہات کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے۔
سفارت خانے کے مطابق، جنگ کے آغاز سے ہی یوکرین اپنے بین الاقوامی شراکت داروں، جن میں بھارتی حکومت کے اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں، کو روسی کارروائیوں کے نتیجے میں شہری بحری نقل و حمل کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات سے مسلسل آگاہ کرتا رہا ہے۔یوکرین نے اپنے شراکت دار ممالک کو ان اقدامات سے بھی آگاہ کیا ہے جو وہ روس کو فوجی سامان کی فراہمی روکنے اور یوکرین کے خلاف جنگ کی معاون لاجسٹک سپلائی چین کو متاثر کرنے کے لیے کر رہا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ان خدشات کو بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے پلیٹ فارم پر بھی باضابطہ طور پر اٹھایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں 12 جون اور 26 جون 2026 کو آئی ایم او کے سرکولر خطوط جاری کیے گئے، جن کے ذریعے رکن ممالک کو موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔یوکرین نے یہ بھی بتایا کہ اس نے بھارت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میری ٹائم ایڈمنسٹریشن (ڈی جی ایم اے) کی جانب سے 23 جولائی 2026 کو جاری کیے گئے سرکولر نمبر 41 کا نوٹس لیا ہے۔ اس سرکولر میں کالا سمندر سے گزرنے والے بھارتی جہازوں اور بھارتی ملاحوں پر مشتمل غیر ملکی پرچم بردار جہازوں کے لیے خصوصی سمندری حفاظتی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
یوکرین کا کہنا ہے کہ ملاحوں اور شہری جہاز رانی کی حفاظت کو یقینی بنانے اور ایسے علاقوں میں بین الاقوامی بحری سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے بروقت اور مؤثر حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں، جہاں خطرات کی واضح نشاندہی ہو چکی ہو۔
اسی تناظر میں یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے بھارت کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس۔ جے شنکر کو ایک خط بھی ارسال کیا ہے۔ اس خط میں یوکرینی سفارت خانے نے ان بھارتی ملاحوں کے اہلِ خانہ سے گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے، جنہوں نے کالا سمندر میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے باعث اپنی جانیں گنوائیں۔وزارتِ خارجہ کے بیان میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ یوکرین کے وزیر خارجہ کی اس تجویز کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان جلد ملاقات یا بات چیت ہوگی، جس میں کالا سمندر کے خطے کی موجودہ سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔یوکرین نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ سمندری سلامتی کی مکمل بحالی کا واحد پائیدار راستہ یہی ہے کہ عالمی برادری روس پر دباؤ بڑھائے تاکہ وہ شہری تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا بند کرے اور بین الاقوامی بحری قوانین کا احترام کرے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







