
نئی دہلی: میگھالیہ کے ہنی مون قتل کیس میں ملزمہ سونم رگھوونشی کودوبارہ جیل جانا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے اس کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے تین ہفتوں کے اندرخود عدالت یا جیل حکام کے سامنے سرینڈرکرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اپنے شوہرراجا رگھوونشی کے قتل کی ملزمہ سونم ضمانت کی حقدارنہیں ہے۔ جسٹس ایم ایم سندریش اورجسٹس پرسنّا بی ورالے کی بنچ نے کہا کہ گرفتاری کے وقت سونم کواس کے خلاف کارروائی کی وجہ معلوم تھی۔ اگراریسٹ میمومیں ٹائپنگ کی کوئی غلطی تھی توصرف اسی بنیاد پرضمانت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے کہا کہ مقدمہ ابھی اہم مرحلے میں ہے، تاہم اگر6 ماہ کے اندرٹرائل مکمل نہ ہوا توسونم نئی ضمانت کی درخواست دائر کرسکتی ہے۔
قابل ذکرہے کہ اندورکے ٹرانسپورٹ کاروباری راجا رگھوونشی کی شادی 11 مئی 2025 کوسونم سے ہوئی تھی۔ شادی کے بعد دونوں ہنی مون کے لئے میگھالیہ گئے۔ چیرراپونجی میں راجا اچانک لاپتہ ہوگئے اوربعد میں ان کی لاش ایک گہری کھائی سے برآمد ہوئی۔ پولیس نے جانچ کے بعد سونم رگھوونشی، اس کے مبینہ عاشق راج کشواہا اوردیگرساتھیوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا۔ 9 جون 2025 کوسونم کواترپردیش کے غازی پورسے گرفتارکیا گیا تھا۔
سونم کو ضمانت کیسے ملی تھی؟
گرفتاری کے وقت تیارکئے گئے اریسٹ میمومیں ایک بڑی غلطی ہوگئی تھی۔ پولیس نے قتل کے لیے لگنے والی بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 103 کی جگہ غلطی سے دفعہ 403 لکھ دی تھی، جبکہ بی این ایس میں ایسی کوئی دفعہ موجود ہی نہیں ہے۔ اسی بنیاد پرنچلی عدالت نے 28 اپریل 2026 کوسونم کومشروط ضمانت دے دی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ ملزم کوگرفتاری کی صحیح وجہ نہ بتانا آئین کے آرٹیکل 22(1) کی خلاف ورزی ہے۔ بعد میں 29 جون کوہائی کورٹ نے بھی نچلی عدالت کے فیصلے کوبرقراررکھا تھا۔
میگھالیہ حکومت کی دلیل
ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف میگھالیہ پولیس سپریم کورٹ پہنچی۔ حکومت کی جانب سے سالیسٹرجنرل تشارمہتا نے کہا کہ سونم کافی عرصے تک مفروررہی اوراپنے ساتھیوں کے مشورے پراس نے خود سرینڈرکیا۔ اسے معلوم تھا کہ وہ کیوں فرارہے اورکیوں سرینڈرکررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے گرفتاری کے وقت بھی اسے وجہ بتائی تھی اوربعد میں مجسٹریٹ نے بھی گرفتاری کی بنیاد واضح کی تھی۔ اس لیے اریسٹ میمومیں انسانی غلطی سے ایک دفعہ کا غلط ذکرضمانت کی بنیاد نہیں بن سکتا۔
عدالت نے سونم کی دلیل مسترد کردی
سونم کی جانب سے پیش وکیل نے کہا کہ وہ اس وقت شیلانگ میں موجود ہے اورضمانت کی تمام شرائط پرعمل کررہی ہے، اس لئے اسے دوبارہ جیل بھیجنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن سپریم کورٹ نے یہ دلیل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیس کے حقائق اورالزام کی سنگینی کودیکھتے ہوئے اس کا ضمانت پرباہررہنا مناسب نہیں ہے۔ سماعت کے دوران سالیسٹرجنرل نے کہا کہ ایسے معاملات میں اضافہ ہورہا ہے، جہاں طلاق لینے کے بجائے منصوبہ بندی کرکے شریکِ حیات کا قتل کیا جارہا ہے۔ اس پرجسٹس سندریش نے کہا کہ نئی نسل شاید ہم سے زیادہ معلومات رکھتی ہے، لیکن وہ ذہنی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ جسٹس ورالے نے کہا کہ نئی نسل کا علم خاندان کے بزرگوں کے بجائے واٹس ایپ اورموبائل سے آرہا ہے، جبکہ بڑے لوگ بھی انہیں جذباتی سہارا دینے کے بجائے موبائل فون تھما دیتے ہیں۔







