
ھتیس گڑھ سے ایک اہم سیاسی اور سماجی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس نے مدرسہ تعلیم کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اتراکھنڈ میں مدرسہ بورڈ کے خاتمے کے بعد اب چھتیس گڑھ میں بھی مدرسہ تعلیم کے ڈھانچے میں تبدیلی کی تجویز سامنے آئی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ مطالبہ کسی سیاسی جماعت یا دائیں بازو کی تنظیم کی جانب سے نہیں بلکہ خود چھتیس گڑھ وقف بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم راج نے کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر سلیم راج نے وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائے کو ایک باضابطہ خط لکھ کر ریاستی مدرسہ بورڈ کو ختم کرنے اور اس کی جگہ ایک نئی چھتیس گڑھ اقلیتی تعلیمی اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ کے دفتر کو خط موصول ہونے کے بعد ریاستی حکومت اس تجویز کے قانونی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔
مدرسہ نظام پر سوالات
اپنے خط میں ڈاکٹر سلیم راج نے موجودہ مدرسہ تعلیمی نظام پر کئی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ نظام موجودہ دور کی تعلیمی ضروریات اور چیلنجز کو پورا کرنے میں مؤثر ثابت نہیں ہو رہا۔ ان کے مطابق ریاست کے بیشتر مدارس میں معیاری اور روزگار سے وابستہ جدید تعلیم کا فقدان ہے، جس کے باعث وہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے مستقبل کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسا تعلیمی نظام فروغ دینا چاہیے جس میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، کمپیوٹر اور دیگر جدید مضامین کی تعلیم بھی لازمی طور پر شامل ہو۔
اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کی تجویز
ڈاکٹر سلیم راج نے اپنے خط میں اتراکھنڈ میں کیے گئے حالیہ تعلیمی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے مشورہ دیا کہ چھتیس گڑھ میں بھی مدرسہ تعلیمی کونسل کی جگہ ایک نئی اقلیتی تعلیمی اتھارٹی قائم کی جائے، تاکہ مدارس کو ریاست کے مرکزی تعلیمی نظام سے بہتر انداز میں جوڑا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسلم طلبہ کو عام اسکولوں کی طرح جدید مضامین کی معیاری تعلیم فراہم کی جائے تو وہ مستقبل میں ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، آئی اے ایس افسر اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔
418 مدارس سے متعلق دعوے
وقف بورڈ کے چیئرمین نے ریاست کے 418 مدارس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کئی رجسٹرڈ مدارس میں اس وقت کوئی طالب علم موجود نہیں، جبکہ بیشتر اداروں میں صرف مذہبی تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری امداد ملنے کے باوجود جدید تعلیم کا معیار اطمینان بخش نہیں ہے، اس لیے مدارس کو محکمۂ اسکولی تعلیم کے تحت چلنے والے تعلیمی نظام سے منسلک کیا جانا چاہیے۔
کانگریس کی مخالفت
اس تجویز کے سامنے آتے ہی چھتیس گڑھ کی سیاست میں گرما گرمی بڑھ گئی ہے۔ کانگریس نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ریاستی حکومت مدرسہ بورڈ کو ختم کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو پارٹی سڑک سے لے کر اسمبلی تک اس کی مخالفت کرے گی۔کانگریس کے مواصلاتی شعبے کے سربراہ سشیل آنند شکلا نے کہا کہ ایسا کوئی بھی اقدام اقلیتوں کے آئینی اور جمہوری حقوق کے خلاف تصور کیا جائے گا۔قابلِ ذکر ہے کہ اتراکھنڈ میں یکم جولائی سے نیا اقلیتی تعلیمی قانون نافذ ہو چکا ہے، جس کے تحت مدارس سمیت تمام اقلیتی تعلیمی اداروں میں مذہبی تعلیم کے ساتھ جدید تعلیم کو بھی قانونی طور پر شامل کیا گیا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







