
الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤبینچ نے اترپردیش اقلیتی کمیشن کی تشکیل میں 2 سال سے زیادہ کی تاخیرپرریاستی حکومت کے رویہ پرسخت ناراضگی ظاہرکی ہے۔ جسٹس راجن رائے اورجسٹس منجیوشکلا کی بینچ نے پیر(6 جولائی) کے روزکہا کہ اگرحکومت کمیشن بنانے میں سنجیدہ ہے تواسے فوری طورپرموثراقدامات کرنے ہوں گے۔ عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 20 جولائی کومقررکی ہے اورمحکمہ اقلیتی بہبود کے پرنسپل سکریٹری سنیکتا سمدارکوذاتی طورپرعدالت میں حاضرہونے کی ہدایت دی ہے۔ قابل ذکرہے کہ یہ حکم مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) کی سماعت کے دوران جاری کیا گیا۔
درخواست گزارشمس تبریزکے وکیل شمشیریادوجگرانا کی طرف سے عدالت کوبتایا گیا کہ جون 2024 سے کمیشن کے چیئرمین اورتمام ممبران کے عہدے خالی ہیں، لیکن کسی نئے چیئرمین یا ممبرکی تقرری نہیں کی گئی۔ عدالت نے اس بات پربھی عدم اطمینان کا اظہارکیا کہ متعدد مواقع دینے کے باوجود حکومت کمیشن کی تنظیم نوکے حوالے سے کوئی ٹھوس پیش رفت دکھانے میں ناکام رہی ہے۔ قابل ذکرہے کہ اترپردیش اقلیتی کمیشن مذہبی اقلیتوں کے آئینی اورقانونی حقوق کے تحفظ، ان کی شکایات سننے اورحکومت کوضروری سفارشات فراہم کرنے میں اہم کردارادا کرتا ہے۔ کمیشن کی بے عملی سے اقلیتوں سے متعلق مقدمات کے حل پرمنفی اثرپڑرہا ہے۔
دوسال سے کمیشن کی نہیں ہوئی تشکیل
عدالت نے آئندہ سماعت 20 جولائی کومقررکرتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود کی پرنسپل سکریٹری سنیکتا سمدارکوذاتی طورپرعدالت میں حاضرہونے کا حکم دیا ہے تاکہ حکومت کی جانب سے ہونے والی پیش رفت کی وضاحت کی جاسکے۔ مفاد عامہ کی ایک عرضی پرسماعت کے دوران جسٹس راجن رائے اورجسٹس منجیوشکلا پرمشتمل بینچ نے درخواست گزارشمس تبریزکی جانب سے معروف وکیل ڈاکٹرشمشیریادوجگرانا پیش ہوئے۔ جگرانا نے عدالت کو بتایا کہ جون 2024 سے اقلیتی کمیشن کے تمام عہدے خالی ہیں، اس کے باوجود حکومت اب تک کمیشن کی تشکیل نومیں ناکام رہی ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پرشدید برہمی ظاہرکی کہ متعدد مواقع فراہم کئے جانے کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی اطمینان بخش جواب یا عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
حکومت کی جانب سے سرد مہری اختیارکی گئی
ابتدائی سماعت میں حکومت نے کمبھ میلہ کے دوران وزیراعلیٰ کی مصروفیات کا حوالہ دیتے ہوئے مہلت طلب کی تھی۔ تاہم کافی عرصہ گزرنے کے باوجود کمیشن کی تشکیل کے سلسلے میں کوئی موثراقدام نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل 24 اپریل، 2025 کوچیف جسٹس ارون بھنسالی اورجسٹس جسپریت سنگھ کی بینچ نے بھی ریاستی چیف سکریٹری سے اس معاملے میں جواب طلب کیا تھا۔ عدالت نے حکومت کوآخری موقع دیتے ہوئے تقرری کے عمل کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کرنے کی ہدایت دی تھی، لیکن تازہ سماعت میں بھی کوئی واضح پیش رفت نہ ہونے پرعدالت نے سخت ناراضگی کا اظہارکیا اورمتعلقہ محکمہ کے اعلیٰ افسرکوذاتی طورپرطلب کرلیا۔
اقلیتوں کے آئینی اورقانونی حقوق کے تحفظ میں آئی بڑی رکاوٹ
قابل ذکرہے کہ اترپردیش اقلیتی کمیشن کے چیئرمین اورتمام 8 اراکین کی میعاد جون 2024 میں ختم ہوگئی تھی، جبکہ ایک رکن سردارپرویندرسنگھ کی مدت اگست 2024 میں مکمل ہوئی۔ اس کے بعد سے اب تک نہ تو کوئی نیا چیئرمین مقررکیا گیا ہے اورنہ ہی کسی رکن کی نامزدگی عمل میں آئی ہے، جس کے باعث کمیشن مکمل طورپرغیرفعال ہوچکا ہے۔ واضح رہے کہ اقلیتی کمیشن کا بنیادی مقصد مذہبی اقلیتوں کے آئینی اورقانونی حقوق کا تحفظ، ان سے متعلق شکایات کی سماعت، امتیازی سلوک کے معاملات کا جائزہ اورحکومت کواصلاحی تجاوزفراہم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ کمیشن اقلیتوں کی سماجی ، تعلیمی اورمعاشی ترقی سے متعلق مسائل کا بھی مطالعہ کرتا ہے اورمتعلقہ محکموں کو سفارشات پیش کرتا ہے۔ درخواست گزارکے وکیل نے عدالت کو بتایا کی جب کمیشن میں نہ کوی چیئرمین موجود ہواورنہ ہی کوئی رکن تواقلیتوں کی شکایات کی سماعت اوران کے حقوق کے تحفظ کا پورا نظام مفلوج ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی مفاد میں عدالت سے مداخلت کی درخواست کی گئی۔ ہائی کورٹ کے سخت رویے کے بعد اب نظریں 20 جولائی کی سماعت پرمرکوزہیں۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







