
بھارتی روپے کی کمزوری پر اکثر بحث ہوتی رہتی ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی سب سے طاقتور سمجھی جانے والی کرنسی امریکی ڈالر بھی تاریخ میں کئی بار شدید گراوٹ کا شکار ہو چکی ہے؟ امریکہ کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کے موقع پر آئیے جانتے ہیں کہ کن ادوار میں ڈالر نے تاریخی کمزوری دیکھی اور اس کے پیچھے کیا وجوہات تھیں۔
ڈالر کی عالمی اہمیت
امریکی ڈالر بین الاقوامی تجارت، سرمایہ کاری اور دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی کرنسی ہے۔ اس کی مضبوطی یا کمزوری نہ صرف امریکی بلکہ عالمی معیشت پر بھی براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ اگرچہ ڈالر کو عموماً مضبوط کرنسی سمجھا جاتا ہے، مگر کئی مواقع پر اس کی قدر میں نمایاں کمی بھی دیکھی گئی ہے۔
ڈالر کیوں کمزور ہوتا ہے؟
ڈالر کی قدر کا انحصار طلب اور رسد پر ہوتا ہے۔ جب امریکی معیشت سست روی کا شکار ہوتی ہے یا سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہوتا ہے تو ڈالر پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ معاشی کساد بازاری، شرحِ سود میں کمی، بڑھتا ہوا سرکاری قرض، تجارتی خسارہ اور جغرافیائی سیاسی بحران ڈالر کی کمزوری کی بڑی وجوہات رہے ہیں۔
1970 کی دہائی اور ’’نکسن شاک‘‘
1971 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے ڈالر کو سونے سے منسلک رکھنے والا نظام ختم کر دیا، جسے ’’نکسن شاک‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ڈالر کی قدر تقریباً 15 فیصد گر گئی اور عالمی مالیاتی نظام میں بڑی تبدیلی آئی۔ بعد ازاں تیل کے بحران اور مہنگائی نے بھی ڈالر کو مزید کمزور کیا۔
1985 کا پلازہ معاہدہ
ڈالر کی سب سے بڑی تاریخی گراوٹوں میں سے ایک 1985 میں دیکھی گئی۔ اس وقت ڈالر غیر معمولی حد تک مضبوط ہو چکا تھا، جس سے امریکی برآمدات مہنگی اور کم مسابقتی ہو گئی تھیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے امریکہ، جاپان، جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے نیویارک کے پلازہ ہوٹل میں ایک معاہدہ کیا، جس کے بعد اگلے دو برسوں میں ڈالر کی قدر تقریباً 40 فیصد کم ہو گئی۔
امریکہ خود ڈالر کو کمزور کیوں کرنا چاہتا تھا؟
1980 کی دہائی میں ڈالر کی غیر معمولی مضبوطی امریکی معیشت کے لیے مسئلہ بن گئی تھی۔ امریکی مصنوعات بیرونِ ملک مہنگی ہونے کے باعث برآمدات کم ہونے لگیں، تجارتی خسارہ بڑھا اور جاپان کے ساتھ تجارتی عدم توازن بڑا مسئلہ بن گیا۔ اسی لیے امریکی حکومت نے ڈالر کو جان بوجھ کر کمزور کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی۔
1987 کا بلیک منڈے
پلازہ معاہدے کے بعد بھی ڈالر دباؤ میں رہا۔ 1987 میں عالمی اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کا شکار ہوئی، جسے بلیک منڈے کہا جاتا ہے۔ اس بحران کے دوران بھی ڈالر کی کمزوری عالمی توجہ کا مرکز بنی رہی۔
2002 سے 2008 تک مسلسل گراوٹ
اس عرصے میں عراق جنگ، بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے اور معاشی غیر یقینی صورتحال نے ڈالر کو متاثر کیا۔ سرمایہ کاروں نے یورو سمیت دیگر کرنسیوں کا رخ کیا، جس کے نتیجے میں ڈالر کی قدر میں تقریباً 14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
2008 کا عالمی مالیاتی بحران
عالمی بینکنگ بحران کے دوران ابتدا میں ڈالر دباؤ کا شکار رہا، تاہم بعد میں سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش میں دوبارہ ڈالر خریدنے لگے، جس سے اس کی قدر میں دوبارہ اضافہ ہوا۔
کورونا وبا کا اثر
2020 میں کورونا وبا کے دوران امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے شرحِ سود کم کی اور معیشت کو سہارا دینے کے لیے بڑے مالیاتی پیکیج متعارف کرائے۔ ابتدائی مہینوں میں ڈالر مضبوط رہا، لیکن بعد میں مارکیٹ میں نقدی بڑھنے کے باعث ڈالر انڈیکس میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
2022 کے بعد کی صورتحال
مہنگائی میں اضافے کے بعد فیڈرل ریزرو نے شرحِ سود میں اضافہ کیا، جس سے ڈالر دوبارہ مضبوط ہوا۔ تاہم بعد ازاں شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث اس کی قدر پر ایک بار پھر دباؤ بڑھنے لگا۔
ڈالر انڈیکس کیا ہے؟
ڈالر انڈیکس یورو، جاپانی ین، برطانوی پاؤنڈ، کینیڈین ڈالر، سویڈش کرونا اور سوئس فرانک کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی طاقت کا پیمانہ ہے۔ اگر یہ انڈیکس گرتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ڈالر دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں کمزور ہو رہا ہے۔
عالمی معیشت پر اثرات
ڈالر کی کمزوری کا براہِ راست اثر تیل، سونے اور دیگر اشیائے صرف کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ کمزور ڈالر ترقی پذیر ممالک کے لیے کسی حد تک فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ سرمایہ کار متبادل کرنسیوں کی طرف رخ کرتے ہیں، جس سے عالمی تجارت اور مالیاتی منڈیوں پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
کیا ڈالر کی بالادستی ختم ہو جائے گی؟
اگرچہ امریکی ڈالر تاریخ میں کئی بار شدید گراوٹ کا شکار ہوا ہے، لیکن آج بھی یہ دنیا کی سب سے بڑی ریزرو کرنسی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل قریب میں عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر کی مرکزی حیثیت مکمل طور پر ختم ہونا آسان نہیں ہوگا۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







