
نئی دہلی: اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ (AGEL) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ساگر اڈانی نے توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے، اقتصادی ترقی کو فروغ دینے اور فوسل فیول پر انحصار کم کرنے کے لیے تیز رفتار برقی کاری (Electrification) کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے لندن کلائمیٹ ایکشن ویک کے دوران لندن کے سائنس میوزیم میں اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ اور انرجی ٹرانزیشن کمیشن (ETC) کے اشتراک سے منعقدہ پہلے ‘اڈانی گرین انرجی ڈائیلاگ’ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی اس وقت ہی قابلِ اعتماد، سستی اور چوبیس گھنٹے بجلی فراہم کر سکتی ہے جب اسے بڑے پیمانے پر انرجی اسٹوریج نظام، جیسے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS) اور پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹس (PSPs) کے ساتھ مربوط کیا جائے۔ساگر اڈانی نے کہا کہ اڈانی گرین انرجی سال 2030 تک 50 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت حاصل کرنے کے ہدف کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس میں گجرات کے خواہڑا (Khavda) میں قائم دنیا کا سب سے بڑا قابلِ تجدید توانائی منصوبہ کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
اس مکالمے میں پالیسی سازوں، سرمایہ کاروں، کاروباری رہنماؤں اور ماحولیاتی ماہرین نے شرکت کی، جہاں صاف توانائی کی جانب عالمی منتقلی کو تیز کرنے کے لیے ضروری پالیسی اصلاحات، سرمایہ کاری کی حکمت عملی اور بنیادی ڈھانچے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔شرکاء نے برقی کاری کو فروغ دینے، قابلِ تجدید توانائی کے استعمال میں اضافہ کرنے اور بجلی کے گرڈ کو جدید بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت (AI)، جدید مینوفیکچرنگ، ڈیٹا سینٹرز اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے باعث آنے والے برسوں میں عالمی سطح پر بجلی کی کھپت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس بڑھتی ہوئی طلب کو پائیدار انداز میں پورا کرنے کے لیے مستقل سرمایہ کاری، طویل مدتی پالیسی وضاحت اور ٹرانسمیشن و اسٹوریج انفراسٹرکچر کی توسیع ناگزیر ہوگی۔
اس پروگرام میں لارڈ اڈائر ٹرنر اور نائیجل ٹاپنگ کی صدارت میں مختلف نشستیں منعقد ہوئیں، جن میں توانائی، مالیات اور ٹیکنالوجی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی عالمی تنظیموں کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔تقریب کا اختتام سائنس میوزیم میں قائم ‘انرجی ریولوشن: دی اڈانی گرین انرجی گیلری’ کے دورے پر ہوا، جہاں مارچ 2024 میں افتتاح کے بعد سے اب تک 10 لاکھ سے زائد افراد آ چکے ہیں۔اس سے قبل رواں ہفتے اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے بھارت کے کم کاربن مستقبل کی حمایت کے لیے قابلِ تجدید توانائی، گرین ہائیڈروجن، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، ٹرانسمیشن اور اگلی نسل کے بنیادی ڈھانچے میں 100 ارب امریکی ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







