
چھتیس گڑھ کے نکسل متاثرہ علاقوں سے آج ایک ایسی تاریخی اور دل کو چھو لینے والی خبر سامنے آئی ہے جس نے پورے ملک کو فخر سے سر اٹھانے کا موقع دیا ہے۔ ریاست کے نو تشکیل شدہ ضلع کھیراگڑھ-چھوئی کھدان-گنڈئی (KCG) کے سالہیوارا سب ڈویژن کے گھنے جنگلات اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں واقع کئی دور افتادہ دیہات نے 1947 میں ملک کی آزادی کے بعد پہلی بار بجلی کی روشنی دیکھی۔دہائیوں تک ماؤ نواز (نکسل) شدت پسندی اور لال دہشت کے سائے میں زندگی گزارنے والے ان دیہات میں جب پاور گرڈ کے ذریعے پہلی بار بجلی پہنچی اور گھروں میں پہلا بلب روشن ہوا تو بزرگوں کی آنکھیں خوشی کے آنسوؤں سے بھر آئیں۔
صدیوں پر محیط اندھیرا ختم
انتظامی حکام کے مطابق سالہیوارا کے انتہائی حساس اور گھنے جنگلات میں واقع گوال گنڈی اماتولا اور لاکھنجھیریا سمیت کئی دیہات جغرافیائی دشواریوں اور نکسل دہشت کے باعث بنیادی ترقی سے ہمیشہ محروم رہے۔ نکسل تنظیمیں اکثر ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ ڈالتی تھیں اور سڑکوں، بجلی کے کھمبوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتی تھیں۔تاہم اب جب یہ علاقہ بڑی حد تک نکسل اثر سے آزاد ہو چکا ہے تو محکمۂ بجلی اور سکیورٹی فورسز نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر تقریباً 10 ایسے دیہات تک بجلی کی لائنیں پہنچا دی ہیں جہاں پہلے پہنچنا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا تھا۔
رات کے وقت خود کو زیادہ محفوظ محسوس کر رہے ہیں دیہاتی
گھروں میں پہلی بار بجلی کی روشنی دیکھنے کے بعد مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مستقل بجلی کی فراہمی نے ان کی زندگی میں انقلابی تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ پہلے سورج غروب ہوتے ہی پورا علاقہ نکسلوں اور جنگلی جانوروں کے خوف میں ڈوب جاتا تھا اور لوگ گھروں میں محصور ہو جاتے تھے، لیکن اب گھروں اور راستوں پر روشنی ہونے سے نہ صرف تحفظ کا احساس بڑھا ہے بلکہ روزمرہ زندگی بھی آسان ہو گئی ہے۔اب بچے رات کے وقت بھی تعلیم حاصل کر پا رہے ہیں اور دیہات کے لوگ ترقی کی مرکزی دھارے سے جڑنے لگے ہیں۔
’لال راہداری‘ پر ’ترقی کے پاور گرڈ‘ کی برتری
کھیراگڑھ-چھوئی کھدان-گنڈئی ضلعی انتظامیہ نے اس کامیابی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف بجلی کے کھمبے نصب کرنے کا منصوبہ نہیں، بلکہ ان ہزاروں قبائلی اور دیہی باشندوں کے حقوق کی فتح ہے جو دہائیوں تک نکسل تشدد کی وجہ سے ترقی سے محروم رہے۔افسران کے مطابق سکیورٹی فورسز کی سخت نگرانی اور حکومت کی تیز رفتار ترقیاتی پالیسی کے تحت اب ان دشوار گزار علاقوں میں موبائل ٹاورز، پختہ سڑکیں اور اسکول قائم کرنے کا کام بھی مشن موڈ میں تیزی سے جاری ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







