
نیوا: وزیراعظم نریندر مودی منگل کو (مقامی وقت کے مطابق) سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا پہنچ گئے، جہاں سے وہ فرانس کے تفریحی مقام ایویان میں منعقد ہونے والے جی-7 سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ فرانس 15 سے 17 جون تک 52ویں جی-7 سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ بھارت اس مرتبہ شراکت دار ملک کے طور پر جی-7 اجلاس میں شرکت کر رہا ہے۔ یہ جی-7 پلیٹ فارم پر بھارت کی 13ویں شرکت ہوگی، جبکہ وزیراعظم نریندر مودی مسلسل ساتویں مرتبہ اس اہم عالمی اجلاس میں شریک ہورہے ہیں۔
سلوواکیہ کے دورے کو ’’تاریخی اور نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا
جنیوا روانگی سے قبل وزیراعظم مودی نے اپنے سلوواکیہ کے دورے کو ’’تاریخی اور نتیجہ خیز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے کے نتائج دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ سلوواکیہ کے ساتھ مضبوط تجارتی اور اقتصادی روابط خاص طور پر نوجوانوں اور آنے والی نسلوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ انہوں نے سلوواکیہ کی حکومت اور عوام کی گرمجوشی، مہمان نوازی اور خیرمقدم پر شکریہ بھی ادا کیا۔
رابرٹ فیکو نے ذاتی طور پر رخصت کیا
بھارت اور سلوواکیہ کے قریبی تعلقات کی عکاسی کرتے ہوئے سلوواکیہ کے وزیراعظم رابرٹ فیکو نے خصوصی طور پر وزیرِ اعظم مودی کو الوداع کہنے کے لیے خود موجود رہ کر انہیں رخصت کیا۔ وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں رابرٹ فیکو کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ذاتی طور پر الوداع کہنے آنا دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کی مضبوطی کا مظہر ہے۔
اعلیٰ ترین اعزاز اور اہم معاہدے
سلوواکیہ کے دورے کے دوران وزیرِ اعظم مودی کو ملک کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز ’’آرڈر آف دی وائٹ ڈبل کراس (فرسٹ کلاس)‘‘ سے نوازا گیا۔ یہ کسی غیر ملکی ملک کی جانب سے وزیرِ اعظم مودی کو دیا جانے والا 33واں بین الاقوامی اعزاز ہے۔ دورے کے دوران بھارت اور سلوواکیہ کے درمیان تعلیم، تحقیق، افرادی نقل و حرکت، ٹیکنالوجی اور اقتصادی تعاون کے شعبوں میں متعدد مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط بھی کیے گئے۔
تجارت، سرمایہ کاری اور افرادی قوت پر توجہ
دونوں ممالک کے درمیان جاری مشترکہ بیان کے مطابق بھارت اور سلوواکیہ نے باہمی تجارت اور دوطرفہ سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کرنے پر اتفاق کیا۔ اس سلسلے میں انڈیا-سلوواکیہ جوائنٹ اکنامک کمیٹی (JEC) کے کردار کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے آٹوموبائل، الیکٹرانکس، جدید مینوفیکچرنگ اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ اس کے علاوہ لیبر مائیگریشن سے متعلق ایک مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے، جس کا مقصد کارکنوں کی محفوظ، قانونی اور منظم نقل و حرکت کو فروغ دینا اور متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو آسان بنانا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







