
کولکتہ: کولکتہ کے ہیئر اسٹریٹ پولیس تھانے میں مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایک تحریری شکایت کی بنیاد پر کی گئی، جس میں ان پر انتخابی جلسے کے دوران اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ نوعیت کا بیان دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
کولکتہ کے نیتاجی سبھاش چندر بوس روڈ کے سووالیا علاقے کے رہائشی تشار کانتی داس نے ممتا بنرجی کے خلاف شکایت درج کرائی۔ شکایت کے مطابق 2026 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران ممتا بنرجی نے ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے لوگوں کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی مبینہ ’’گمراہ کن تشہیر‘‘ سے محتاط رہنے کا مشورہ دیا تھا، لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ وہ کس قسم کی تشہیر کی بات کر رہی ہیں۔
فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے خطرہ تھا بیان
شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جلسے میں دیا گیا بیان بظاہر اشتعال انگیز تھا اور اس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوا۔ شکایت گزار کے مطابق ایسے بیانات مختلف برادریوں کے درمیان خوف، نفرت، غلط فہمی اور کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔ شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ اس قسم کے بیانات عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کر سکتے ہیں، جو ریاست کے امن، سماجی ہم آہنگی اور جمہوری ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
انتخاب کے بعد پیش آئے واقعات کا بھی حوالہ
شکایت گزار نے اپنی درخواست میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ اسمبلی انتخابات کے بعد کولکتہ اور مغربی بنگال کے مختلف اضلاع میں فرقہ وارانہ تشدد کے متعدد واقعات پیش آئے، جو مبینہ طور پر مذکورہ تقریر کے اثرات سے جڑے ہو سکتے ہیں۔
داس نے پولیس کے حوالے کیا ویڈیو ثبوت
تشار کانتی داس نے اپنی شکایت کے ساتھ متعلقہ انتخابی جلسے کی ویڈیو ایک پین ڈرائیو میں محفوظ کرکے پولیس کے حوالے کیا ہے۔ انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، ویڈیو اور دیگر ڈیجٹل شواہد کی جانچ کی جائے اور غیر جانبدارانہ و جامع تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ اگر تحقیقات میں کسی جرم کی تصدیق ہوتی ہے تو قانون کے مطابق مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ضابطۂ اخلاق کے تحت بھی جانچ کا مطالبہ
شکایت گزار کا کہنا ہے کہ اگر یہ بیان انتخابی مہم کے دوران دیا گیا ہے تو اس کی جانچ انتخابی ضوابط اور مثالی ضابطۂ اخلاق کے تحت بھی ہونی چاہیے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا کسی انتخابی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔ اب اس معاملے میں پولیس کی ابتدائی تحقیقات اور شواہد کی جانچ کے بعد آئندہ قانونی کارروائی کا راستہ طے ہوگا۔






