
نئی دہلی: فلسطینی وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے عائد مالی دباؤ اور محصولات کی رقوم روکے جانے کے باعث فلسطینی نظام صحت ایک سنگین اور غیر معمولی انسانی بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ وزارت کے مطابق موجودہ صورتحال ہزاروں مریضوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن چکی ہے اور صحت کا پورا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔فلسطینی وزارتِ صحت نے 4 جون کو جاری ایک ہنگامی بیان میں خبردار کیا تھا کہ ضروری ادویات اور طبی سامان کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ وزارت کے مطابق 520 بنیادی ادویات میں سے 180 مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں، جب کہ کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی 97 ادویات میں سے 50 دستیاب نہیں رہیں۔ اس صورتحال کے باعث چار ہزار سے زائد کینسر کے مریضوں کی جانیں براہِ راست خطرے میں پڑ گئی ہیں۔وزارت صحت نے گردوں کے مریضوں کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ڈائلیسس کے لیے درکار ادویات اور لیبارٹری مواد کے اسٹریٹجک ذخائر میں غیر معمولی کمی واقع ہو چک[/highlight]ی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں مریضوں کو علاج میں مشکلات کا سامنا ہے۔
فلسطینی حکام کے مطابق سال 2026 کے آغاز سے یکم جون تک صرف 19 ہزار 500 آپریشنز انجام دیے جا سکے، جب کہ 2025 کے دوران تقریباً 65 ہزار سرجریاں کی گئی تھیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ادویات اور وسائل کی کمی کے باعث 11 ہزار سے زائد طے شدہ آپریشن ملتوی کرنا پڑے، جس سے مریضوں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ وزارت صحت کا الزام ہے کہ اس بحران کی بنیادی وجہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی محصولات (کلیئرنس ریونیو) کی رقوم روکنا ہے، جس کے باعث فلسطینی حکومت صحت کے شعبے کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو گئی ہے۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ معاشی بدحالی، غربت اور بے روزگاری میں اضافے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جب کہ زیادہ سے زیادہ شہری سرکاری اسپتالوں اور طبی مراکز پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت نے عالمی برادری، امدادی اداروں اور عطیہ دہندگان سے فوری مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جان بچانے والی ادویات کی فراہمی کے لیے 50 ملین امریکی ڈالر درکار ہیں، جبکہ بنیادی طبی خدمات کے تسلسل اور ضروری ادویات کی دستیابی کے لیے مزید 50 ملین ڈالر کی ضرورت ہے۔وزارت نے خبردار کیا کہ اگر صحت کے شعبے کی صورتحال میں فوری بہتری نہ لائی گئی تو یہ ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ فلسطینی حکام نے بین الاقوامی تنظیموں، انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی نظامِ صحت کی مدد کے لیے فوری اقدامات کریں اور مریضوں کے علاج اور زندگی کے بنیادی حق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔






