
نئی دہلی: ایئر انڈیا نے کہا ہے کہ گزشتہ سال احمد آباد میں پیش آنے والے AI-171 طیارہ حادثے سے متاثرہ بیشتر خاندانوں کو 25 لاکھ روپے فی خاندان کے حساب سے عبوری معاوضہ ادا کر دیا گیا ہے۔ ایئر لائن کے مطابق متوفیوں کے 96 فیصد خاندانوں کو یہ رقم فوری مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے فراہم کی جا چکی ہے۔ ایئر انڈیا ذرائع کے مطابق باقی معاملات میں زیادہ تر دستاویزات کی کمی یا خاندانی تنازعات کی وجہ سے ادائیگیاں مکمل نہیں ہو سکیں۔
زخمی افراد اور متاثرین کی مدد کے لیے اقدامات
ایئر لائن کے مطابق حادثے میں زمین پر زخمی ہونے والے 94 فیصد افراد کو یا تو مکمل اور حتمی معاوضہ دیا جا چکا ہے یا پھر ان کی چوٹوں اور روزگار کے نقصان کے مطابق عبوری امداد فراہم کی گئی ہے۔ ایئر انڈیا نے واضح کیا کہ حتمی معاوضے کا عمل اب باقاعدہ طور پر شروع ہو چکا ہے اور متاثرہ خاندانوں سے مسلسل رابطہ کیا جا رہا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ کسی بھی خاندان پر معاوضہ قبول کرنے کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی قسم کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
ٹاٹا گروپ کی جانب سے ایک کروڑ روپے کی اضافی امداد
ایئر انڈیا نے بتایا کہ ٹاٹا سنز نے AI-171 میموریل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ قائم کیا ہے، جس کا مقصد حادثے سے متاثرہ افراد اور خاندانوں کی مدد کرنا ہے۔ ٹاٹا سنز کے چیئرمین این چندراسیکرن نے تمام متوفیوں کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے فی خاندان خصوصی مالی امداد کا اعلان کیا تھا، جو قانونی معاوضے سے الگ ایک فلاحی اقدام ہے۔ ایئر انڈیا کے مطابق 91 فیصد متاثرہ خاندانوں کو یہ ایک کروڑ روپے کی امداد بھی فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ باقی معاملات دستاویزات کی عدم تکمیل یا رقم قبول نہ کرنے کی وجہ سے زیر التوا ہیں۔
ذاتی سامان کی واپسی کا عمل جاری
ایئر انڈیا نے کہا کہ متاثرین کے ذاتی سامان کی واپسی انتہائی احتیاط اور احترام کے ساتھ کی جا رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق حادثے کے مقام سے 22 ہزار سے زائد اشیا محفوظ کی گئیں اور ان کی مکمل فہرست تیار کی گئی۔ ایئر لائن نے بتایا کہ ہندوستان اور برطانیہ میں 139 متوفیوں کے اہل خانہ کو ان کا سامان واپس کیا جا چکا ہے، جبکہ بعض کیسز میں قانونی اور دستاویزی مسائل کے باعث عمل جاری ہے۔ مزید یہ کہ 15 خاندانوں نے ذاتی سامان وصول کرنے سے انکار کر دیا۔
حادثے کے بعد وسیع امدادی کارروائی
ایئر انڈیا کے مطابق حادثے کے فوراً بعد ٹاٹا گروپ کی 17 کمپنیوں کے 500 سے زائد رضاکار امدادی کارروائیوں میں شامل ہوئے، جن میں 130 ملازمین ایئر انڈیا کے تھے۔ ہر متاثرہ خاندان کے لیے خصوصی معاونت ٹیم کی جانب سے ایک تربیت یافتہ نگہداشت کار مقرر کیا گیا، جو چوبیس گھنٹے مدد فراہم کرتا رہا۔ احمد آباد میں ایک خصوصی ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیا گیا، جس نے دو ماہ سے زائد عرصے تک خاندانوں کو دستاویزات اور دعووں کے سلسلے میں معاونت فراہم کی۔
حکومت فضائی سفر کی حفاظت کو یقینی بنائے
حادثے میں اپنے بیٹے ہرشت پٹیل اور بیٹی پوجا پٹیل کو کھونے والے انل کمار پٹیل نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کے روز انہوں نے صبح اپنے بچوں کو ہوائی اڈے تک چھوڑا تھا اور پرواز میں سوار ہونے کے بعد ویڈیو کال پر ان سے آخری بار بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور ایئر لائن نے مالی مدد فراہم کی، تاہم وہ چاہتے ہیں کہ آئندہ ایسا سانحہ دوبارہ پیش نہ آئے اور فضائی سفر کی حفاظت کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
260 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے
واضح رہے کہ تقریباً ایک سال پہلے 12 جون 2025 کو ایئر انڈیا کی پرواز AI-171، جو ایک Boeing 787-8 Dreamliner تھی، احمد آباد کے سردار ولبھ بھائی پٹیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے کے چند لمحوں بعد حادثے کا شکار ہوگئی تھی۔ اس المناک حادثے میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں 229 مسافر، 12 عملے کے ارکان اور زمین پر موجود 19 افراد شامل تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں گجرات کے سابق وزیراعلیٰ وجے روپانی بھی شامل تھے۔ سرکاری حکام کے مطابق حادثے کی تحقیقات آخری مرحلے میں ہیں اور تحقیقاتی رپورٹ جلد جاری کیے جانے کی توقع ہے۔







