
راجستھان کے جے پور کے مالویہ نگر میں واقع نورانی مسجد کے انہدام کے خلاف تنازعہ مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مختلف مسلم تنظیموں نے مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کرکے انتظامیہ کی کارروائی پر سخت اعتراض ظاہر کیا اور پورے معاملے کی عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیموں کا الزام ہے کہ مسجد کو اُس وقت منہدم کیا گیا جب یہ معاملہ وقف ٹریبونل میں زیرِ سماعت تھا، جس سے عدالتی عمل اور آئینی حقوق کو نظر انداز کیا گیا۔
’انتظامیہ نے جلد بازی سے کام لیا‘
پریس کانفرنس کے دوران مسلم لیڈرؤں نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ زمین 1981 میں قانونی طور پر خریدی گئی تھی اور 1988 میں مسجد کا اندراج وقف بورڈ میں کرایا گیا تھا۔ ان کے مطابق 8 جون کو بھاری پولیس نفری کی موجودگی میں مسجد کو منہدم کر دیا گیا، جس کے باعث مسلم برادری میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ دینی و ملی رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ کارروائی سے قبل متعلقہ فریقین کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا، جو قدرتی انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔
حکومت اور انتظامیہ کے کردار پر سوالات
مسلم تنظیموں نے حکومت اور انتظامیہ کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر زمین یا تعمیرات سے متعلق کوئی تنازع موجود تھا تو اس کا حل عدالت اور قانونی طریقۂ کار کے ذریعے نکالا جانا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ عجلت میں کی گئی اس کارروائی نے قانون کی بالادستی اور جمہوری اقدار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کانگریس لیڈر امین کاغذی کا ردِعمل
پریس کانفرنس میں کانگریس لیڈر امین کاغذی نے بھی حکومت کی کارروائی پر ردِعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو مسلم سماج کی شرافت، تحمل اور آئین پر اعتماد کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ برادری انصاف اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جمہوری اور پُرامن طریقے سے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔
مسلم تنظیموں کے پانچ اہم مطالبات
مسلم تنظیموں نے اس معاملے میں پانچ بڑے مطالبات پیش کیے ہیں:
پورے واقعے کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔
کارروائی میں شامل افسران کی جوابدہی طے کی جائے۔
منہدم کی گئی مسجد کی ازسرِ نو تعمیر کی اجازت دی جائے۔
مذہبی مقامات سے متعلق معاملات کے لیے شفاف پالیسی بنائی جائے۔
قومی اور ریاستی انسانی حقوق کمیشن ازخود نوٹس لے کر تحقیقات شروع کرے۔
تنظیموں نے واضح کیا کہ ان کا احتجاج مکمل طور پر پُرامن اور آئینی دائرے میں رہے گا۔ انہوں نے عوام سے صبر و تحمل برقرار رکھنے اور جمہوری طریقوں سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کی اپیل کی۔ لیڈروں کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک عبادت گاہ کا نہیں بلکہ مذہبی عقیدے، شناخت اور آئینی حقوق سے بھی جڑا ہوا ہے، اس لیے غیر جانبدارانہ تحقیقات اور انصاف کی فراہمی ناگزیر ہے۔







