
نیپال کے نئے وزیر اعظم بلیندر شاہ نے حلف اٹھانے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی ایک بڑی کارروائی کی ہے۔ ملک کے سابق وزیراعظم اور سی پی این-یو ایم ایل کے چیئرمین کے پی شرما اولی کو گزشتہ سال ہونے والے جین-جی احتجاج کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو بھی حراست میں لیا گیا۔گرفتاری کے بعد موجودہ وزیر داخلہ سودان گرونگ نے فیس بک پوسٹ کے ذریعے تصدیق کرتے ہوئے لکھا، “وعدہ تو وعدہ ہے۔ کوئی بھی قانون سے اوپر نہیں۔ ہم نے سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی اور سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو حراست میں لیا ہے۔ یہ کسی کے خلاف انتقام نہیں؛ یہ صرف انصاف کی شروعات ہے۔”
اد رہے کہ 8 اور 9 ستمبر 2025 کو سابق حکومت کے خلاف بدعنوانی اور بے روزگاری کے خلاف جین-جی نے احتجاج شروع کیا تھا، جو جلد ہی پرتشدد شکل اختیار کر گیا اور اس دوران 19 افراد ہلاک ہوئے۔نیپالی میڈیا ہمالین ٹائمزکے مطابق، اولی کو ہفتہ کی صبح ان کے گندو میں واقع گھر سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس کی ٹیم نے رات بھر انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی۔ سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو بھی صبح کے وقت ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا۔
یہ پہلا موقع ہے جب نیپال کی تاریخ میں کسی چیف ایگزیکٹو کو قتل کے شبہ میں حراست میں لیا گیا ہے۔ پہلے سابق وزرائے اعظم کو عموماً تحقیقات کے لیے یا محدود نگرانی میں رکھا جاتا تھا، لیکن سیاسی مظاہروں اور احتجاجی واقعات میں وہ پولیس کی نگرانی میں رہ چکے ہیں۔تین دن قبل جاری ہونے والی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق، سابق وزیراعظم اولی، سابق وزیر داخلہ لیکھک، سابق پولیس چیف چندر کوبیرکھپونگ اور دیگر کو کرمنل کوڈ 2017 کی دفعہ 182 کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔
نئے وزیر اعظم بلیندر شاہ کے حلف کے چند گھنٹوں کے اندر کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمیشن کی رپورٹ پر فوری عملدرآمد کیا جائے، جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں کو مستثنیٰ رکھا گیا۔ وزیر داخلہ سودان گرونگ نے پولیس کو 8 ستمبر کی واقعہ کی تحقیقات کی ہدایت دی، اور لا سیکریٹری پراشور ڈھنگانہ نے پوری رات رپورٹ کو نافذ کرنے اور ضروری ڈرافٹ تیار کرنے میں گزار دی۔اس کارروائی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نئی حکومت قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے اور ماضی کے احتجاج میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور سخت اقدامات اٹھانے پر مرکوز ہے۔







