
نئی دہلی : کیمیائی کیڑے مار ادویات اور ملاوٹ شدہ خوراک کے بڑھتے استعمال سے انسانی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کے حوالے سے بھارتی پہلوان اور اداکار سنگرام سنگھ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ممبئی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران وہ گجرات کے کسان اور تاجر شیلیش جاریا کے ساتھ موجود تھے، جہاں دونوں نے آرگینک کھیتی اور خالص خوراک اپنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنگرام سنگھ نے کہا کہ جدید شہری زندگی کی تیز رفتاری میں لوگ قدرتی اور تازہ خوراک سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے لوگ درختوں سے تازہ پھل توڑ کر کھاتے تھے اور کھیتوں سے سبزیاں براہِ راست گھروں تک لاتے تھے، مگر اب یہ روایت کم ہوتی جا رہی ہے۔
انہوں نے صحت مند طرزِ زندگی کے لیے متوازن غذا کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تازہ اور آرگینک پھل و سبزیاں جسم کو ضروری غذائی اجزاء فراہم کرتی ہیں، جس سے نہ صرف جسمانی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ طویل مدت تک بیماریوں سے بچاؤ بھی ممکن ہوتا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی روزمرہ خوراک میں قدرتی اور خالص غذاؤں کو شامل کریں۔
اس موقع پر سنگرام سنگھ نے اپنے آئندہ کھیلوں کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ وہ جلد ایک بین الاقوامی ایم ایم اے مقابلے میں شرکت کریں گے۔ یہ مقابلہ 5 اپریل کو ارجنٹینا میں ’سمورائی فائٹ لیگ‘ کے تحت ہوگا، جہاں ان کا مقابلہ فرانس کے ایک فائٹر سے متوقع ہے۔
دوسری جانب شیلیش جاریا نے کہا کہ مارکیٹ میں دستیاب زیادہ تر پھل اور سبزیاں کیمیائی ادویات کے زیادہ استعمال کے باعث صحت کے لیے خطرناک بنتی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق کینسر، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض جیسے مسائل میں اضافے کی ایک بڑی وجہ غیر معیاری اور کیمیکل سے بھرپور خوراک بھی ہے۔
انہوں نے روایتی اور آرگینک کھیتی کے فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر کسان کیمیائی کھاد اور زہریلی ادویات کے بجائے قدرتی اور حیاتیاتی کھادوں کا استعمال کریں تو نہ صرف زمین کی زرخیزی برقرار رہے گی بلکہ صارفین کو محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک بھی میسر آئے گی۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ آرگینک فارمنگ کی طرف قدم بڑھائیں تاکہ آنے والی نسلوں کو صحت مند مستقبل فراہم کیا جا سکے۔







