
نئی دہلی: مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ آج شام سے جموں کے تین روزہ دورے پر روانہ ہوں گے، جہاں وہ علاقے کی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا بھی معائنہ کریں گے۔ یہ دورہ 5 سے 7 فروری تک جاری رہے گا۔ اپنے قیام کے دوران امت شاہ اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کریں گے جن میں سرحدی علاقوں اور حساس اضلاع میں موجودہ سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ ان اجلاسوں میں وزارت داخلہ، جموں و کشمیر انتظامیہ، پولیس، خفیہ ایجنسیاں اور مرکزی نیم فوجی دستوں کے اعلیٰ افسران شرکت کریں گے۔ میٹنگ میں خاص طور پر انسداد دہشت گردی کارروائیوں، سرحدی نگرانی، دراندازی کی کوششوں اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان تال میل پر توجہ دی جائے گی تاکہ علاقے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
سکیورٹی اور ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ
سکیورٹی کے ساتھ ساتھ امت شاہ جموں خطے میں جاری اہم ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیں گے۔ مرکز نے جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار ترقی، بہتر رابطہ نظام اور گراس روٹ سطح پر حکمرانی کو مضبوط بنانے پر خاص زور دیا ہے۔ جائزہ اجلاس میں مرکزی حکومت کی اہم اسکیموں اور فلاحی منصوبوں کے نفاذ پر بھی تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔ اپنے طے شدہ پروگرام کے تحت امت شاہ بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی بوبیا اور گرنام بارڈر آؤٹ پوسٹس کا دورہ کریں گے، جہاں وہ بین الاقوامی سرحد پر زمینی صورتحال کا جائزہ لیں گے اور بی ایس ایف اہلکاروں سے ملاقات کر کے ان کی خدمات کو سراہیں گے۔
شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات
ایک اہم عوامی رابطہ اقدام کے تحت مرکزی وزیر داخلہ فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہونے والے جوانوں کے اہل خانہ سے ملاقات بھی کریں گے اور حکومت کی ہمدردانہ تقرری پالیسی کے تحت اہل افراد کو ملازمت کے تقرری نامے بھی حوالے کریں گے۔ یہ دورہ حکومت کی دوہری حکمت عملی مضبوط سکیورٹی نظام اور مسلسل ترقی کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد جموں و کشمیر میں پائیدار امن اور ہمہ گیر ترقی کو یقینی بنانا ہے۔