
مغربی بنگال: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ہفتہ کے روز آنندپور میں مومو فیکٹری میں پیش آئے ہولناک آتشزدگی کے واقعہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے مغربی بنگال میں ممتا بنرجی حکومت کی بدعنوانی کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ریاستی حکومت کے کرپٹ نظام کی پیداوار ہے۔ بی جے پی کارکنوں کے ایک بڑے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ وہ اپنی تقریر کا آغاز آگ میں جاں بحق ہونے والے مزدوروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’میں اس بڑے اجتماع کے سامنے کھڑا ہو کر سب سے پہلے آنندپور کے گودام میں مومو فیکٹری کی آگ میں جان گنوانے والے مزدوروں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ یہ آگ کوئی حادثہ نہیں تھی، بلکہ یہ ممتا بنرجی حکومت کی بدعنوانی کا نتیجہ ہے۔‘‘
آنندپور حادثہ: 27 افراد لاپتہ، تین گرفتار
واضح رہے کہ رواں ہفتے کولکاتا کے علاقے آنندپور میں واقع ایک مومو فیکٹری میں شدید آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک جبکہ متعدد لاپتہ ہو گئے تھے۔ باروئی پور پولیس کے مطابق، اس واقعہ میں 21 نمونے ڈی این اے پروفائلنگ کے لیے بھیجے گئے ہیں جبکہ 27 افراد کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کی گئی ہے۔ اس معاملے میں اب تک تین افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور تفتیش جاری ہے۔
متوا اور نامشودر برادری کو دھمکانے کا الزام
امت شاہ نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ریاست میں متوا اور نامشودر برادری کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے ان برادریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی دباؤ میں نہ آئیں۔ انہوں نے کہا: ’’مجھے معلوم ہوا ہے کہ ممتا بنرجی متوا اور نامشودر برادری کو دھمکا رہی ہیں۔ میں عوامی پلیٹ فارم سے کہنا چاہتا ہوں کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ممتا جی آپ کے ووٹ کو چھو بھی نہیں سکتیں۔‘‘ امت شاہ نے کہا کہ ممتا بنرجی چاہے جتنا این آر سی کی مخالفت کریں، لیکن دراندازوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹانے ہی ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی درانداز بچ بھی گیا تو بی جے پی کا وزیر اعلیٰ آکر اسے ہٹائے گا۔
بدعنوانی پر ممتا حکومت کو کھلا چیلنج
مرکزی وزیر داخلہ نے ممتا بنرجی کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ واقعی بدعنوانی کے خلاف ہیں تو بدعنوان لیڈروں کو ٹکٹ نہ دے کر ثابت کریں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا: ’’اگر ان لیڈروں کو ٹکٹ نہیں دیا گیا تو وہ ممتا بنرجی کے بھتیجے کا نام بے نقاب کر دیں گے، اسی لیے وہ ایسا کبھی نہیں کریں گی۔ مگر ہم ہر بدعنوانی کی جانچ کریں گے اور سبھی کرپٹ افراد کو جیل بھیجیں گے۔‘‘
شیاما پرساد مکھرجی کو خراج عقیدت
امت شاہ نے جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ’’بنگال کی انمول دھروہر‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر شیاما پرساد مکھرجی نہ ہوتے تو بنگال بنگلہ دیش کا حصہ بن چکا ہوتا اور انہوں نے کشمیر کے لیے اپنی جان کی قربانی دی۔ انہوں نے کہا: ’’آج ان کی پارٹی ملک کی 21 ریاستوں میں حکومت بنا چکی ہے۔ مودی جی اس دن سب سے زیادہ خوش ہوں گے جب 22ویں ریاست کے طور پر بنگال میں بھی بی جے پی کی حکومت بنے گی۔‘‘







