
اترپردیش کے ضلع بستی کی ڈسٹرکٹ کنزیومر کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں ٹرین کی غیر معمولی تاخیر کے باعث نیٹ (این ای ای ٹی) امتحان سے محروم ہونے والی طالبہ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے انڈین ریلوے کو قصوروار قرار دیا ہے۔ عدالت نے ریلوے پر 9 لاکھ 10 ہزار روپے کا بھاری جرمانہ عائد کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ یہ رقم 45 دن کے اندر متاثرہ طالبہ کو ادا کی جائے، بصورتِ دیگر پوری رقم پر 12 فیصد سالانہ سود بھی دینا ہوگا۔
یہ معاملہ 7 مئی 2018 کا ہے، جب بستی کے کوتوالی تھانہ علاقے کے پیکورا بخش محلے کی رہائشی طالبہ سمریدھی نیٹ کا امتحان دینے لکھنؤ جا رہی تھی۔ اس کا امتحانی مرکز جے نارائن پی جی کالج، لکھنؤ میں مقرر تھا، جہاں رپورٹنگ کا وقت دوپہر 12:30 بجے تھا۔ طالبہ نے بستی سے لکھنؤ جانے کے لیے انٹرسٹی سپر فاسٹ ٹرین کا ٹکٹ لیا تھا، جو شیڈول کے مطابق صبح 11 بجے لکھنؤ پہنچنے والی تھی۔
تاہم، ٹرین مقررہ وقت سے ڈھائی گھنٹے تاخیر سے پہنچی، جس کے باعث طالبہ وقت پر امتحانی مرکز نہیں پہنچ سکی اور نیٹ کا اہم امتحان چھوٹ گیا۔ اس واقعے سے طالبہ کی برسوں کی محنت اور ایک پورا تعلیمی سال ضائع ہو گیا، جس کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہو گئی۔
متاثرہ طالبہ نے اس معاملے پر ریلوے انتظامیہ سے رابطہ کیا اور وزارت ریلوے، جنرل منیجر اور اسٹیشن سپرنٹنڈنٹ کو نوٹس بھی بھیجے، مگر کوئی جواب نہ ملنے پر اس نے 11 ستمبر 2018 کو ڈسٹرکٹ کنزیومر کمیشن میں مقدمہ دائر کر دیا۔
کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر ریلوے مقررہ مدت میں جرمانہ ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے قابل ادا رقم پر 12 فیصد سالانہ سود بھی الگ سے متاثرہ کو دینا ہوگا۔ اس فیصلے کے بعد ریلوے انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی ہے اور اسے صارفین کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔






