
بی جے پی کے ساتھ میچ فکسنگ کے الزامات پرآل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) سربراہ اسدالدین اویسی نے پلٹ وارکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں الیکشن لڑتا رہوں گا۔ میرے تئیں نفرت اورالزامات بتاتے ہیں کہ میں جوکررہا ہوں، اس میں کامیاب ہو رہا ہوں۔ ان لوگوں کولگتا ہے کہ اویسی اوراے آئی ایم آئی ایم کی وجہ سے سیاسی توازن خراب ہورہا ہے۔ ہم مسلم طبقے کوہورہے نقصان کوٹھیک کرنے کے لئے ہم سیاسی توازن بگاڑیں گے۔
اسدالدین اویسی نے مزید کہا کہ جب آپ نے بہارمیں ہمارے چاراراکین اسمبلی لے لئے تھے توکیا وہ گاندھی وادی کام تھا؟ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کتنے بے شرم ہیں، جب وہ اراکین اسمبلی کو توڑتے ہیں تو وہ بڑا نیک کام ہے اوروہی کام مہاراشٹرمیں ہوگیا، شیوسینا کے دوٹکڑے ہوگئے، این سی پی کے دوٹکڑے ہوگئے۔ کرناٹک میں کانگریس کی حکومت کے اراکین اسمبلی بھاگ گئے، مدھیہ پردیش میں بھاگ گئے توآپ نے آسمان کو سرپراٹھالیا۔ یہی ان لوگوں کی منافقت ہے۔ ان کا دوہرا رویہ ہے۔ اویسی نے کہا کہ آپ نے ہمارے چاراراکین اسمبلی توڑے، ماشاءاللہ ہم دوبارہ جیتے۔
بہارمیں گزشتہ سال ہوئے اسمبلی الیکشن میں اسدالدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے پانچ سیٹوں پرجیت حاصل کی ہے۔ اس سے پہلے 2020 کے اسمبلی الیکشن میں بھی اے آئی ایم آئی ایم نے پانچ سیٹیں جیتیں تھیں۔ مگراس کے چاراراکین اسمبلی توڑلئے گئے۔ یہ سارے آرجے ڈی میں چلے گئے۔
مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات میں اے آئی ایم آئی ایم کی شاندار کارکردگی
حال ہی میں مہاراشٹربلدیاتی انتخابات میں اسدالدین اویسی کی پارٹی نے شاندارکارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اے آئی ایم آئی ایم نے 125 وارڈوں میں جیت حاصل کی۔ اس سے پہلے بلدیاتی انتخابات میں اویسی کی پارٹی نے 56 سیٹوں پرجیت حاصل کی تھی۔ مراٹھ واڑہ اورودربھ کے علاقوں میں اے آئی ایم آئی ایم کی پکڑمضبوط ہوئی ہے۔







