
عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین بھارت کے ساتھ ایک تاریخی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہے۔ منگل کو اپنے خطاب میں انہوں نے امریکہ کو واضح پیغام دینے کی کوشش کی کہ یورپ اب ٹیرف کے دباؤ سے بے خوف ہو کر نئے شراکت داروں کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ وان ڈیر لیئن نے کہا کہ یورپی یونین نے متعدد ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کیے ہیں اور اب بھارت کے ساتھ بات چیت آخری مرحلے میں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ابھی کچھ کام باقی ہے، لیکن ہم ایک ایسے تاریخی تجارتی معاہدے کے دہانے پر کھڑے ہیں جسے بعض لوگ تمام معاہدوں کی ماں قرار دے رہے ہیں۔ یہ معاہدہ تقریباً دو ارب لوگوں کے لیے ایک مشترکہ منڈی تشکیل دے گا اور عالمی جی ڈی پی کے تقریباً ایک چوتھائی حصے کی نمائندگی کرے گا‘‘۔
یورپی یونین کی صدر کے مطابق، یہ ممکنہ معاہدہ نہ صرف یورپ کی اقتصادی بنیاد کو مضبوط کرے گا بلکہ اسے عالمی سطح پر مزید بااثر بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یورپ لاطینی امریکہ سے لے کر ایشیا پیسیفک تک ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقتوں کے ساتھ شراکت داری کو ترجیح دے رہا ہے اور دنیا بھی تیزی سے یورپ کی جانب تعاون کے لیے ہاتھ بڑھا رہی ہے۔ وان ڈیر لیئن نے تصدیق کی کہ وہ اگلے ہفتے بھارت کا دورہ کریں گی اور 26 جنوری کو بھارت کے یومِ جمہوریہ کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کریں گی۔ ان کا یہ دورہ بھارت اور یورپی یونین کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز تصور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں یورپی یونین کو اپنی اقتصادی اور اسٹریٹجک طاقت میں مزید تیزی سے اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، جغرافیائی سیاسی اتار چڑھاؤ یورپ کے لیے ایک چیلنج کے ساتھ ساتھ ایک موقع بھی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جو بڑی تبدیلیاں دنیا میں ہو رہی ہیں، وہ ایک نئی یورپی خودمختاری کی تعمیر کو ممکن اور ضروری بناتی ہیں، چاہے وہ دفاع کا شعبہ ہو یا معیشت اور جمہوریت‘‘۔ ذرائع کے مطابق، بھارت اور یورپی یونین 27 جنوری کو ایک تاریخی فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے مسودے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔ یہ پیش رفت یومِ جمہوریہ کی تقریب کے ایک دن بعد متوقع ہے، جس میں یورپی یونین کے اعلیٰ لیڈر شریک ہوں گے۔
ایف ٹی اے کے سلسلے میں دونوں فریق ایک مشترکہ دستاویز اختیار کریں گے، جس کے بعد معاہدے کو قانونی کارروائی کے لیے یورپی پارلیمنٹ اور یورپی کونسل کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ سلامتی اور دفاعی شراکت داری کے معاہدے اور یورپی یونین میں کام کرنے والے بھارتی شہریوں کی نقل و حرکت بڑھانے سے متعلق ایک اور معاہدہ بھی طے پانے کا امکان ہے۔ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن بھارت کے 77ویں یومِ جمہوریہ کی تقریب میں مہمانِ خصوصی ہوں گے، جس کے بعد وہ مشترکہ طور پر بھارت-یورپی یونین سربراہی اجلاس کی صدارت کریں گے۔ یورپی یونین کا ایک فوجی دستہ پہلی بار یومِ جمہوریہ کی پریڈ میں شرکت کرے گا، جو دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ تجارتی معاہدہ بھارت کی جانب سے اب تک کا سب سے بڑا معاہدہ ہوگا، جس میں 27 رکنی یورپی یونین کے ساتھ اشیا اور خدمات کی تجارت شامل ہوگی۔







