
ہائی وے پر گاڑی لے کر نکلنے والوں کے لیے بڑی خبر ہے۔ ٹول پلازہ پر لگنے والی لمبی قطاروں اور ’’چِلّر‘‘ (چھوٹے پیسوں) کے چکر میں ہونے والی پریشانی سے اب ہمیشہ کے لیے نجات ملنے والی ہے۔ مرکزی حکومت ٹول ٹیکس وصولی کے پرانے طریقۂ کار کو مکمل طور پر بدلنے کی تیاری کر رہی ہے۔
اپریل سے نقد ادائیگی کا خاتمہ
اطلاعات کے مطابق یکم اپریل سے ملک بھر کے ٹول پلازوں پر نقد ادائیگی کی سہولت بند کی جا سکتی ہے۔ حکومت کا واضح ہدف ٹول پلازوں کو مکمل طور پر ’’کیش لیس‘‘ بنانا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب جیب میں نقد رقم رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل طریقے سے ہوں گی۔
یہ فیصلہ کیوں لیا گیا؟
اکثر دیکھا گیا ہے کہ ٹول پلازوں پر ایک گاڑی کی نقد ادائیگی کی وجہ سے پیچھے سیکڑوں گاڑیوں کی لمبی قطار لگ جاتی ہے۔ کبھی چھوٹے پیسوں کو لے کر ڈرائیور اور ٹول عملے کے درمیان بحث ہو جاتی ہے، تو کبھی رسید بنانے میں وقت لگتا ہے۔ نئے نظم کے بعد یہ تمام مسائل ختم ہو جائیں گے۔ ڈیجیٹل ادائیگی کے باعث گاڑیاں بغیر رکے یا بہت کم وقت میں ٹول پار کر سکیں گی، جس سے وقت اور ایندھن دونوں کی بچت ہوگی۔
ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑا قدم
سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت کے سکریٹری وی۔ اوماشنکر کے مطابق ملک میں ڈیجیٹل لین دین تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ ٹول نظام کو بھی مکمل طور پر جدید بنایا جائے۔ جب ہر چیز ڈیجیٹل ہوگی تو بدعنوانی کی گنجائش کم ہو جائے گی اور ہر ایک روپے کا ریکارڈ شفاف طریقے سے حکومت کے پاس موجود رہے گا۔
قابلِ ذکر ہے کہ ابتدائی طور پر جب ٹول پلازوں پر یو پی آئی ادائیگی کا تجربہ کیا گیا تو عوام نے اسے خوب پسند کیا۔ اسی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اب اسے لازمی بنانے کی سمت قدم بڑھائے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک محکمہ کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن کا انتظار ہے، لیکن تیاریوں کو تقریباً مکمل بتایا جا رہا ہے۔







