
ممبئی: مہاراشٹر کی سیاست میں اپنے تیکھے اور جارحانہ بیانات کے لیے پہچانے جانے والے شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے اس بار سب کو حیران کر دیا ہے۔ بی ایم سی انتخابات میں کراری شکست کے بعد راؤت کے بیانات کا انداز اچانک بدلتا نظر آ رہا ہے۔ اپنے دیرینہ سیاسی حریف اور ریاست کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کی کھلے عام تعریف کر کے انہوں نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بی ایم سی انتخابات میں مہایوتی کی تاریخی جیت کے بعد وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس سوئٹزرلینڈ کے شہر داووس میں منعقد ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔ اس دوران زیورخ ایئرپورٹ پر مقیم مراٹھی برادری نے ان کا روایتی اور پُرجوش استقبال کیا۔ اسی استقبال پر تبصرہ کرتے ہوئے سنجے راؤت نے فڈنویس کے غیر ملکی دورے کے استقبال کا موازنہ براہِ راست وزیر اعظم نریندر مودی کے بیرون ملک دوروں سے کر دیا۔
سنجے راؤت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ جس طرح وزیر اعظم نریندر مودی کا بیرون ملک شاندار استقبال ہوتا ہے، اسی طرح زیورخ میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کا پرتپاک استقبال ہر مراٹھی مانوس کے لیے فخر کی بات ہے۔ راؤت کے اس بیان نے سیاسی مبصرین کو چونکا دیا ہے، کیونکہ یہی راؤت ماضی میں فڈنویس اور بی جے پی پر سخت حملے کرتے رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ راؤت کی یہ تعریف محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی چال ہو سکتی ہے۔ بی ایم سی میں میئر کے عہدے کو لے کر بی جے پی اور ایکناتھ شندے دھڑے کے درمیان پہلے ہی اندرونی کشمکش جاری ہے۔ شندے گروپ ڈھائی-ڈھائی سال کے فارمولے پر زور دے رہا ہے، جبکہ بی جے پی زیادہ نشستیں ہونے کی بنیاد پر اپنا میئر چاہتی ہے۔ ایسے وقت میں راؤت کی جانب سے فڈنویس کو عالمی سطح کا لیڈر بتانا شندے کیمپ کے لیے بے چینی کا سبب بن سکتا ہے۔
کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ راؤت ایک نیا سیاسی بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فڈنویس اب ریاستی سیاست سے آگے بڑھ چکے ہیں اور ان کے لیے دہلی کی سیاست کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ اس صورت میں مہاراشٹر میں سیاسی توازن بدل سکتا ہے اور اپوزیشن کے لیے نئی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف راؤت کی جانب سے وزیر اعلیٰ کی تعریف ہو رہی ہے، تو دوسری جانب ممبئی میں میئر کی کرسی کو لے کر مہایوتی کے اندر اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے نازک سیاسی موڑ پر اپوزیشن لیڈر کی یہ نرم گفتاری کئی سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ داووس سے واپسی کے بعد وزیر اعلیٰ فڈنویس اس سیاسی تعریف کا کیا جواب دیتے ہیں اور مہاراشٹر کی سیاست کس سمت آگے بڑھتی ہے۔







