
ممبئی: آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار اے آر رحمان حالیہ دنوں میں مبینہ فرقہ وارانہ امتیاز سے متعلق اپنے بیان کو لے کر تنازع کا شکار ہیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ گزشتہ آٹھ برسوں میں انہیں بالی ووڈ میں کم مواقع ملے ہیں اور اس کمی کی ایک ممکنہ وجہ فلم انڈسٹری میں بڑھتی فرقہ وارانہ سوچ ہو سکتی ہے۔ اس پورے معاملے پر اب جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ نغمہ نگار اور اسکرپٹ رائٹر جاوید اختر نے اے آر رحمان کے بیان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں انڈسٹری میں بھرپور عزت و احترام حاصل ہے۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، “ایک طرف جب جاوید اختر بالی ووڈ میں بڑھتی فرقہ واریت کو لے کر اے آر رحمان کی تشویش کو مسترد کرتے ہیں، تو دوسری طرف وہ بھارتی مسلمانوں کی زمینی حقیقتوں کے ساتھ تضاد پیدا کرتے ہیں۔”
محبوبہ نے اپنی پوسٹ میں شبانہ اعظمی کا دیا حوالہ
محبوبہ مفتی نے اپنی پوسٹ میں جاوید اختر کی اہلیہ شبانہ اعظمی کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا، “شبانہ اعظمی نے خود کھل کر بتایا تھا کہ انہیں مسلمان ہونے کی وجہ سے بمبئی جیسے جدید اور جامع شہر میں بھی مکان دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔” محبوبہ مفتی نے مزید لکھا، “بالی ووڈ ہمیشہ سے ایک متحرک ’منی انڈیا‘ رہا ہے، جو ملک کی سماجی حقیقتوں اور تنوع کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے تجربات کو جھٹلانا یا انہیں معمولی سمجھنا آج کے بھارت میں موجود عدم مساوات اور چیلنجز کو ختم نہیں کر سکتا۔”
جاوید اختر نے اے آر رحمان کے دعوے کو کیا مسترد
اس سے قبل جاوید اختر نے اے آر رحمان کے دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے آئی اے این ایس سے گفتگو میں کہا تھا، “مجھے کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا۔ میں ممبئی میں رہتا ہوں، سب سے ملتا ہوں۔ رحمان کو بے حد عزت ملتی ہے۔ وہ بہت مصروف رہتے ہیں، شوز کرتے ہیں، اسی لیے پروڈیوسرز ان سے رابطہ کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔ آسکر ونر جیسی عظیم شخصیت کے پاس شاید چھوٹے پروڈیوسرز جانے سے جھجکتے ہوں۔ اس میں کوئی فرقہ وارانہ زاویہ نہیں ہے۔”







