
ممبئی: برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) سمیت مہاراشٹر کی 29 میونسپل کارپوریشنوں کے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی اور شیوسینا (شندے) اتحاد کی شاندار جیت کے بعد ریاستی سیاست میں ایک نئی تصویر ابھرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس جیت کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کو بی جے پی کی شہری حکمتِ عملی کا مضبوط اور مؤثر چہرہ مانا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ممبئی کی سڑکوں پر فڈنویس کی ستائش میں بڑے پیمانے پر بینر اور پوسٹر لگائے گئے ہیں، جن پر انہیں ’مہاراشٹر کا دھرندھر‘ قرار دیا گیا ہے۔
ہفتہ کی صبح مالاڈ، کاندیولی اور ممبئی کے دیگر مضافاتی علاقوں میں جگہ جگہ ایسے بینر اور پوسٹر نظر آئے، جن میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کی قیادت اور انتخابی کامیابی کو نمایاں طور پر پیش کیا گیا۔ ان پوسٹروں کے ذریعے شہری ووٹروں میں بی جے پی کی مضبوط پکڑ اور فڈنویس کے سیاسی قد کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، شہر کے کئی مصروف چوراہوں اور اہم مقامات پر یہ پوسٹر جیتنے والے امیدواروں اور پارٹی کارکنان کی جانب سے لگائے گئے ہیں۔ ممبئی بی جے پی یوا مورچہ کے صدر تجندر سنگھ تیوانا نے بھی مختلف علاقوں میں ’دھُرندھر دیویندر‘ کے عنوان سے پوسٹر آویزاں کروائے ہیں، جسے پارٹی کے اندر فڈنویس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس سے قبل ریاستی وزیر اور بی جے پی کے سینئر لیڈر چندر شیکھر باونکولے نے انتخابی نتائج کے دن دیویندر فڈنویس کو ’مہاراشٹر کا برانڈ‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ بی جے پی نے عوام کے سامنے ترقی کے واضح نکات رکھے اور ’ترقی یافتہ ممبئی، ترقی یافتہ مہاراشٹر‘ کے عزم کے ساتھ میدان میں اتری۔ ان کے مطابق، اسی ایجنڈے پر عوام نے مہر لگائی اور پورے انتخابی عمل کی قیادت فڈنویس نے کی۔
بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس ناگپور پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے رہائشی مکان پر والدہ کا آشیرواد حاصل کیا۔ انہوں نے اس موقع کی تصاویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ عظیم بلدیاتی جیت کے بعد والدہ کا آشیرواد لینا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ کامیابی کے بعد فڈنویس کے اہلِ خانہ نے بھی ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اہلیہ امریتا فڈنویس اور بیٹی دیویجا سمیت اہلِ خانہ نے انہیں جیت کا تلک لگایا۔ اس موقع پر مہاراشٹر حکومت کے وزیر آشیش شیلار اور ممبئی بی جے پی کے صدر امت ساٹم بھی موجود تھے، جنہوں نے اس جیت کو اتحاد کی بڑی کامیابی قرار دیا۔







