
نئی دہلی: گزشتہ ایک دہائی کے دوران، بالخصوص شمال مشرقی بھارت اور مغربی بنگال میں ریلوے کی شناخت یکسر بدل چکی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے بڑے پیمانے کے کام نے ریلوے کو اس خطے کی ترقی کا حقیقی ’’انجن‘‘ بنا دیا ہے۔ جو علاقے کبھی خستہ حال انفراسٹرکچر اور سہولتوں کی کمی کے باعث جانے جاتے تھے، وہ اب جدید ریلوے نظام کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
پسماندہ علاقوں میں فیصلہ کن تبدیلی
شمال مشرقی سرحدی ریلوے کے چیف پبلک ریلیشنز آفیسر کپنجل کشور شرما نے حال ہی میں مغربی بنگال میں ریلوے کے بدلتے منظرنامے پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق، جو علاقے کبھی جغرافیائی رکاوٹوں اور غیر مساوی رسائی کا شکار تھے، وہاں اب فیصلہ کن تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اس تبدیلی کا مرکز “امرت بھارت اسٹیشن اسکیم” ہے، جسے دنیا کی سب سے بڑی اسٹیشن ری ڈیولپمنٹ اسکیم قرار دیا جا رہا ہے۔
امرت بھارت اسٹیشن اسکیم: ایک نیا دور
یہ اسکیم محض اسٹیشنوں کی تزئین و آرائش تک محدود نہیں، بلکہ عوامی بنیادی ڈھانچے میں ایک نئے دور کی شروعات ہے۔ اس کا مقصد ریلوے کو جدید عوامی ضروریات کے مطابق ازسرِ نو تشکیل دینا ہے، تاکہ سفر زیادہ سہل، محفوظ اور آرام دہ بنایا جا سکے۔
1300 سے زائد اسٹیشنوں کی جدید کاری
پورے ملک میں 1300 سے زائد ریلوے اسٹیشنوں کو اس اسکیم کے تحت نیا روپ دیا جا رہا ہے۔ ان اسٹیشنوں پر جدید انتظار گاہیں، معذور مسافروں کے لیے خصوصی سہولتیں، ڈیجیٹل انفارمیشن سسٹم اور بہتر آمد و رفت کے راستے تیار کیے جا رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ہر اسٹیشن کی تعمیر میں مقامی ورثے اور علاقائی طرزِ تعمیر کو ترجیح دی جا رہی ہے، تاکہ یہ اسٹیشن اپنی شناخت کے ساتھ ترقی کے دروازے بن سکیں۔
مغربی بنگال: جدید ریلوے کا مثالی ماڈل
مغربی بنگال اس تبدیلی کی ایک شاندار مثال بن کر ابھرا ہے۔ یہاں مسافروں کی سہولت، سلامتی اور آسانی پر اس قدر کام ہوا ہے کہ ریلوے سفر کا تجربہ پہلے سے یکسر مختلف ہو چکا ہے۔ امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت ریاست میں 101 اسٹیشنوں کی تزئین و ترقی کی جا رہی ہے، جس پر تقریباً 3600 کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے۔
بڑے اور چھوٹے مراکز کو یکساں فائدہ
اس منصوبے میں نہ صرف کولکاتا جیسے بڑے شہروں کے اسٹیشن شامل ہیں، بلکہ سرحدی قصبوں اور زیارتی مقامات کے اسٹیشنوں کو بھی جدید بنایا جا رہا ہے، تاکہ ترقی کا فائدہ سماج کے ہر طبقے تک یکساں طور پر پہنچ سکے۔
نیو جلپائی گڑی: شمال مشرق کا جدید دروازہ
ہاوڑہ، سیالدہ، نیو جلپائی گڑی اور آسن سول جیسے بڑے مراکز کے ساتھ ساتھ مالدہ ٹاؤن، سلی گڑی اور علی پور دوار جیسے اسٹیشنوں کو بھی مکمل طور پر جدید کیا جا رہا ہے۔ خصوصاً نیو جلپائی گڑی اسٹیشن کو تقریباً 335 کروڑ روپے کی لاگت سے شمال مشرقی بھارت کے ایک جدید ’’گیٹ وے‘‘ کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے، جہاں نئے ٹرمینل اور ایئر کونکورس جیسی عالمی معیار کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
مسافروں کے ساتھ معیشت کو بھی فائدہ
مجموعی طور پر یہ انفراسٹرکچر پر مبنی ترقی نہ صرف مسافروں کے سفر کو آسان اور آرام دہ بنا رہی ہے، بلکہ مقامی تجارت، روزگار اور اقتصادی سرگرمیوں کو بھی نئی توانائی فراہم کر رہی ہے۔







