
سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ایک جانب سعودی عرب نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اعلیٰ ترین اعزازات میں شمار ہونے والے کنگ عبدالعزیز میڈل (فرسٹ کلاس) سے نوازا، تو دوسری جانب سعودی عدالتوں نے منشیات کے مقدمات میں مجرم قرار دیے گئے دو پاکستانی شہریوں کو سزائے موت دے دی۔ یہ متضاد واقعات بیک وقت سامنے آنے کے بعد انسانی حقوق اور سفارتی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے حال ہی میں ریاض میں ایک خصوصی تقریب کے دوران پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر کو یہ اعزاز پیش کیا۔ یہ میڈل شاہ سلمان کے خصوصی حکم پر دیا گیا، جس کا مقصد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون، دوطرفہ تعلقات اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق یہ اعزاز دونوں ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات اور باہمی اعتماد کی علامت ہے۔
تاہم، اسی دوران سعودی عرب میں دو پاکستانی شہریوں کو منشیات سے متعلق مقدمات میں مجرم پائے جانے پر سزائے موت دی گئی۔ برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ریپرایو کے مطابق سال 2025 سعودی عرب میں سزائے موت کے لحاظ سے اب تک کا سب سے ہولناک سال ثابت ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال اب تک 347 افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے، جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 345 تھی، جو پہلے ہی ایک ریکارڈ سمجھی جا رہی تھی۔
دستیاب معلومات کے مطابق جن دو پاکستانی شہریوں کو پھانسی دی گئی، وہ منشیات رکھنے کے جرم میں سزا یافتہ تھے۔ سعودی عدالت نے انہیں قصوروار قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی، تاہم ان افراد کے نام اور دیگر تفصیلات سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی گئیں۔ سعودی حکام کا مؤقف ہے کہ منشیات سے متعلق جرائم ریاست کی سلامتی اور معاشرتی اقدار کے لیے سنگین خطرہ ہیں، اس لیے ان پر سخت ترین سزائیں دی جاتی ہیں۔ ریپرایو کی رپورٹ کے مطابق رواں سال سزائے موت پانے والوں میں ایک صحافی، دو نوجوان مرد اور پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تقریباً دو تہائی مقدمات منشیات سے متعلق تھے، جن میں کسی فرد کی جان نہیں گئی تھی۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی انسانی حقوق تنظیموں نے ایسے مقدمات میں سزائے موت کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے منافی قرار دیا ہے۔
تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ سعودی عرب میں پھانسی سے قبل مجرم کے اہلِ خانہ کو پیشگی اطلاع نہیں دی جاتی، نہ ہی لاش ورثا کے حوالے کی جاتی ہے اور اکثر یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ تدفین کہاں کی گئی۔ سعودی عرب میں سزائے موت عام طور پر سر قلم کرنے یا فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جاتی ہے۔ یوں ایک ہی وقت میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی فوجی سربراہ کو اعلیٰ اعزاز دیا جانا اور پاکستانی شہریوں کو سزائے موت دینا، دونوں ممالک کے تعلقات اور انسانی حقوق کے سوالات کو ایک ساتھ اجاگر کرتا ہے۔







