
نئی دہلی: امریکہ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر بھاری 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ بھارتی برآمدات کو بڑا دھچکا لگے گا، لیکن نومبر کے تازہ اعداد و شمار نے اس سوچ کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ دو ماہ کی مسلسل گراوٹ کے بعد بھارت نے امریکی منڈی میں شاندار واپسی کی ہے اور برآمدات میں اچانک 22 فیصد سے زائد اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس غیر متوقع بحالی کے پیچھے سپلائی چین میں تبدیلیاں اور امریکی مارکیٹ میں تعطیلاتی سیزن سے قبل اسٹاک جمع کرنے کی حکمت عملی اہم وجہ بنی ہے۔
گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو (جی ٹی آر آئی) کے مطابق، اگست سے امریکہ کی جانب سے بھارتی اشیا پر 50 فیصد ٹیرف نافذ کیے گئے تھے، جس کے بعد ستمبر اور اکتوبر میں برآمدات میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ تاہم نومبر میں صورتحال یکسر بدل گئی اور بھارت سے امریکہ کو ہونے والی برآمدات 22.61 فیصد اضافے کے ساتھ 6.98 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس اچانک اضافے نے تجارتی حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سب سے نمایاں واپسی اسمارٹ فون سیکٹر نے کی ہے۔ مئی میں جہاں اسمارٹ فونز کی برآمدات 2.29 ارب ڈالر تھیں، وہ ستمبر میں گھٹ کر صرف 88.46 کروڑ ڈالر رہ گئی تھیں۔ لیکن نومبر میں یہ دوبارہ بڑھ کر 1.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جسے ماہرین ایک ’گرانڈ کم بیک‘ قرار دے رہے ہیں۔ اسی طرح جواہرات اور زیورات کی برآمدات بھی سنبھل گئیں اور نومبر میں 40.62 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ستمبر میں آدھی سے بھی کم رہ گئی تھیں۔ مشینری اور مکینیکل آلات کی برآمدات بھی اپنی پرانی سطح، یعنی 61.46 کروڑ ڈالر، کے قریب واپس آ گئیں۔
جی ٹی آر آئی کے بانی اجے شریواستو نے اس واپسی کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں بھاری ٹیرف کے خوف سے امریکی خریداروں نے آرڈرز روک دیے تھے۔ تاہم جب یہ واضح ہو گیا کہ ٹیرف برقرار رہیں گے، تو بھارتی برآمد کنندگان اور امریکی خریداروں کے درمیان نئی حکمت عملی اپنائی گئی۔ دونوں فریقوں نے اضافی لاگت کو آپس میں تقسیم کیا اور قیمتوں پر دوبارہ مذاکرات کیے۔ اس کے ساتھ ہی ان مصنوعات پر توجہ بڑھائی گئی جن کے متبادل آسانی سے دستیاب نہیں تھے۔
اگرچہ نومبر کے اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں، لیکن ماہرین نے محتاط رہنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ جی ٹی آر آئی کا کہنا ہے کہ یہ بحالی ممکن ہے طویل مدت تک برقرار نہ رہے، کیونکہ یہ سخت ٹیرف کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے اور قلیل مدتی حکمت عملیوں کا نتیجہ ہے، نہ کہ تجارت میں کسی مستقل بہتری کا۔ دوا سازی اور معدنی ایندھن کے شعبوں میں بھی کچھ بہتری ضرور آئی ہے، لیکن یہ اب بھی مئی کی سطح سے نیچے یا اس کے آس پاس ہی ہے۔ اس لیے آنے والے مہینے یہ طے کریں گے کہ بھارت کی یہ ’زبردست واپسی‘ کتنی مضبوط ثابت ہوتی ہے۔







