
گوہاٹی: آسام میں ایک بڑے ریل حادثے سے بال بال بچنے کی خبر سامنے آئی ہے، جہاں ہفتہ کی علی الصبح راجدھانی ایکسپریس ایک ہاتھیوں کے جھُنڈ سے ٹکرا گئی۔ یہ افسوسناک واقعہ لمڈنگ ڈویژن کے جمونامکھ–کامپور ریلوے سیکشن پر پیش آیا، جس نے ایک بار پھر جنگلی جانوروں اور ریلوے ٹریک کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کے مسئلے کو اجاگر کر دیا ہے۔ خوش قسمتی سے اس حادثے میں کسی بھی مسافر کو جانی نقصان نہیں پہنچا، تاہم سات ہاتھیوں کی موت نے سب کو غمزدہ کر دیا ہے۔ ریلوے ذرائع کے مطابق، ٹرین نمبر 20507 سیرانگ–نئی دہلی راجدھانی ایکسپریس ہفتہ کی صبح تقریباً 2 بج کر 17 منٹ پر جمونامکھ–کامپور سیکشن سے گزر رہی تھی۔ اسی دوران اچانک ہاتھیوں کا ایک بڑا جھُنڈ ریلوے ٹریک پر آ گیا۔ لوکو پائلٹ نے جیسے ہی ہاتھیوں کو دیکھا، فوری طور پر ایمرجنسی بریک لگائے، لیکن تیز رفتار ہونے کے باعث ٹرین کو بروقت روکنا ممکن نہ ہو سکا اور انجن ہاتھیوں سے ٹکرا گیا۔
اس زوردار ٹکر کے نتیجے میں ٹرین کا انجن اور پانچ کوچ پٹری سے اتر گئے۔ حادثے کی جگہ گوہاٹی سے تقریباً 126 کلومیٹر دور واقع ہے۔ ابتدائی جانچ میں بتایا گیا ہے کہ اس حادثے میں سات ہاتھی موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک ہاتھی کا بچہ شدید طور پر زخمی ہوا ہے، جس کا محکمہ جنگلات کی جانب سے علاج کیا جا رہا ہے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریلوے اور ضلعی انتظامیہ فوری طور پر متحرک ہو گئی۔ اعلیٰ ریلوے افسران نے جائے حادثہ پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا۔ محکمہ جنگلات کے افسران بھی موقع پر موجود رہے اور ہاتھیوں کی لاشوں کو ہٹانے کا کام شروع کیا گیا۔
مسافروں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے متاثرہ کوچوں کے مسافروں کو دیگر کوچوں میں خالی برتھ پر منتقل کر دیا گیا۔ شدید متاثرہ کوچوں کو ٹرین سے الگ کر دیا گیا، جس کے بعد صبح تقریباً 6 بج کر 11 منٹ پر راجدھانی ایکسپریس کو گوہاٹی کی جانب روانہ کیا گیا۔ ریلوے حکام نے بتایا کہ گوہاٹی پہنچنے کے بعد ٹرین میں اضافی کوچ جوڑے جائیں گے، تاکہ مسافروں کو آگے کے سفر میں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔
اس واقعے کے بعد گوہاٹی ریلوے اسٹیشن پر مسافروں اور ان کے اہل خانہ کی سہولت کے لیے ہیلپ لائن نمبرز بھی جاری کیے گئے۔ شمال مشرقی سرحدی ریلوے کے چیف پبلک ریلیشن آفیسر نے وضاحت کی کہ یہ حادثہ کسی نوٹیفائیڈ ایلیفنٹ کوریڈور میں پیش نہیں آیا۔ فی الحال متاثرہ ریلوے سیکشن پر ٹریک کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے، جبکہ ٹرینوں کی آمد و رفت عارضی طور پر اَپ لائن سے ڈائیورٹ کی گئی ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر جنگلی حیات کے تحفظ اور ریلوے سلامتی کے درمیان توازن کی ضرورت پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔







